جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

احسن اقبال کو وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نارروال سے سروسز ہسپتال لاہورمنتقل کیا گیا ،سیکورٹی ہائی الرٹ

datetime 6  مئی‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی) نارروال میں کارنر میٹنگ کے دوران قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے وزیر داخلہ احسن اقبال کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر پر نارروال سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا ، احسن اقبال کو نارروال سے لاہور منتقل کئے جانے تک سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو ٹیلیفون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور لاہور منتقل کئے جانے کے بعد ہسپتال جا کر ان کی عیادت اورجلد صحتیابی کی

دعا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ، وزیر اعلیٰ نے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے فائرنگ کے نتیجے میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے زخمی ہونے کی اطلاع پر انہیں لاہور منتقل کرنے کے لئے فوری طور پر پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر نارروال روانہ کیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے احسن اقبال کو ٹیلیفو ن کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پر نارووال کے علاقے میں ایک کارنرمیٹنگ کے دوران فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کی ۔وزیراعلی نے فائرنگ کے واقعہ پر دکھ اورافسوس کا اظہار کیااورکہا کہ فائرنگ کے ذمہ دار قانون کے مطابق سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر تحقیقات کی نگرانی کررہا ہوں۔ وزیراعلی نے آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ فائرنگ کے ذمہ دار کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے تمام حقائق سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ۔آئی جی پنجاب نے بھی ڈی پی او عمران کشور سے رپورٹ طلب کی جنہوں نے ابتدائی رپورٹ ارسال کر دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے محکمہ صحت کے ذمہ داران کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ احسن اقبال کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر پر نارروال سے لاہور منتقل کیا گیا ۔ اس دوران ڈاکٹروں کی ٹیم بھی ہیلی کاپٹر پر انکے ہمراہ لاہور پہنچی۔ لاہور کے اولڈ ائیر پورٹ پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے جبکہ ائیر پورٹ سے سروسز ہسپتال تک روٹ پر بھی پولیس کی نفری تعینا ت تھی ۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو لاہور منتقل کئے جانے سے قبل پولیس کے اعلیٰ افسران نے سروسز ہسپتال کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ۔ڈی آئی جی معین مسعود کی سربراہی میں پولیس کے دیگر افسران نے سروسز ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا۔ سروسز ہسپتا ل کے سرجیکل یونٹ ون سمیت دیگر حصوں کی سرچنگ کی گئی اور کلیئرنس کے بعد اہلکاروں کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ۔ ہسپتال کے داخلی راستوں کے علاوہ مختلف مقامات پر بھی پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی جبکہ ہسپتال آنے والوں کی بھی جامع تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا

۔سی سی پی او لاہور ، قائمقام ڈی آئی جی آپریشنز اور سی ٹی او سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے بھی سروسز ہسپتال کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف بھی سخت سکیورٹی میں سروسز ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے احسن اقبال کی عیادت کی ۔ اس موقع پر ڈاکٹروں نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو احسن اقبال کو لگنے والی گولی اور علاج معالجے بارے بریفنگ دی ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہدایت کی کہ احسن اقبال کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات مہیا کی جائیں ۔وزراء اور پارٹی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد بھی احسن اقبال کی عیادت کے لئے ہسپتال پہنچ گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…