جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھرمیں جعلی منرل واٹر فیکٹریوں کی بھرمار،استعمال سے شہری کن امراض کا شکار ہورہے ہیں؟خوفناک انکشاف

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی غفلت،باہمی اختلافات اور عدالتوں میں مقدمے بازی کے باعث وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھرمیں جعلی منرل واٹر فیکٹریوں کی بھرمار ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران اتھارٹی صرف 30 جعلی فیکٹریوں کو بند کراسکی۔ آلودہ پانی کے استعمال سے شہری انجانے میں مختلف موذی ا مراض کاشکار ہورہے ہیں ۔

اتھارٹی کے حکام نے قائمہ کمیٹی کے استفسارپراعتراف کیاہے کہ وہ کھلے دودھ کے معیار کوبھی نہیں دیکھتے بلکہ صرف کمپنی کی بنی چیزوں کا معیار چیک کرتے ہیں۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے معیار کو بہترکرنے کے لیے تیارکردہ بل2017 کمیٹی نے یہ کہہ کر مستردکردیاکہ اس میں معیار کو چیک کرنے کے لیے مناسب اقدامات کافقدان ہے۔دریں اثنا پاکستان اسٹینڈرڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے میڈیاآفیسررحمت میمن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے ٹال فری نمبر دیا گیاجس پر شہری خودشکایت کرسکتے ہیں اورشکایت کی بنیادپر چھاپے مارجاتے ہیں،اس ضمن میں ایک انسپکٹرکی سربراہی میں چھاپہ مار ٹیم ہر ریجن میں بنائی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…