جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان سے الحاق سے قبل ہمیں کون سا کام کرنا ہو گا؟مولانا فضل الرحمان نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی فاٹا بارے تقریر سے تشویش پیدا ہوئی، مجھے اس پر تحفظات ہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام خودکریں گے،ایم ایم اے کا 13 مئی کومینار پاکستان پر جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا،جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان سے الحاق سے قبل ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہو گا،عمران خان اگر ملک کے وزیراعظم بنے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہو گی،

فاٹا کے بارے میں وزیراعظم کی تقریر سے تشویش پیدا ہوئی، مجھے اس پر تحفظات ہیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ خودفاٹا کے عوام کریں گے، ایم ایم اے کا 13 مئی کومینار پاکستان پر جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا۔ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر حکمرانوں کی اچھائیاں چھپائی جاتی ہیں اور برائیاں دکھائی جاتی ہیں، جو یہ سب کرواتے ہیں ہم ان مکار دوستوں کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان اگر ملک کے وزیراعظم بنے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام اور ایم ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان سے الحاق سے قبل ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہو گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم ایم اے کا 13 مئی کومینار پاکستان پر جلسہ ملکی انتخابی تاریخ کو بدل دے گا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کا تجربہ پہلی بار نہیں ہے، ایم ایم اے پہلے بھی کامیاب رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے آئندہ انتخابات میں کتاب کے نشان کے ساتھ میدان میں اترے گی۔جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ہماری جماعت نے پہلے روز سے ہی بہاولپور اور سرائیکی صوبے کی حمایت کی ہے، جو لوگ اب اس کی حمایت کر رہے ہیں، انہیں 5 سال قبل کیوں یاد نہ آیا۔فاٹا اصلاحات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس حوالے سے مجھ

سے نہیں وہاں کے عوام سے پوچھا جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں فاٹا میں ترقی ہو لیکن فاٹا کے بارے میں وزیراعظم کی تقریر سے تشویش پیدا ہوئی، مجھے اس پر تحفظات ہیں کیونکہ اپنے مستقبل کا فیصلہ فاٹا کے عوام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور ملک ابھی کسی داخلی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اداروں اور فوج کا احترام کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…