جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کا وار، تحریک انصاف کی بنیادیں ہل گئیں، ایک بڑی وکٹ اڑا لی

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

کوہاٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) نے تحریک انصاف کی اہم وکٹ گرا دی، پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے ناصر خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کر لی،دوسروں کی وکٹیں گرانے والی تحریک انصاف آج اپنی وکٹ بھی گنوا بیٹھی، جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنائے گی،ایک پاکستانی لیڈر نے تقریر کی کہ الیکشن نزدیک ہے تو مولوی صاحب کو پھر اسلام خطرے میں نظر آرہا ہے،

اگر آپ اپنی لادینیت کیلئے ووٹ مانگ سکتے ہیں تو میں بھی دین اسلام کیلئے ووٹ مانگ سکتا ہوں،پاکستان کے قیام کو 70سال ہو چکے ،سیاست اور نظام حکومت پر مذہب بیزارقوتوں کا قبضہ ہے، یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان نظام کے اعتبار سے لبرل اور سیکولر نظر آئے،میں پانچ سال تک ایوانوں میں ملکی سالمیت اور اس کے اسلامی تشخص کو قائم رکھنے کی جنگ لڑتا رہاہوں اور اب کارکردگی کی بنیادپر عوام سے ووٹ لینے آیا ہوں ۔جمعرات کو کوہاٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ناصر خان خٹک کو جمعیت میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان کے قیام کو 70سال ہو چکے ہیں، سیاست اور نظام حکومت پر مذہب بیزارقوتوں کا قبضہ ہے، یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان نظام کے اعتبار سے لبرل اور سیکولر نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جس نظرئیے پر بنا تھا، جمعیت علماء اسلام اس ملک کو حقیقی اسلامی ریاست بنائے گی، آج کے روشن خیال اور لبرل طبقوں کی سوچ زمانہ جاہلیت کے قبائل کی سوچ میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نظریاتی لوگ ہیں، میں پانچ سال تک ایوانوں میں ملکی سالمیت اور اس کے اسلامی تشخص کو قائم رکھنے کی جنگ لڑتا ہوں، اب انتخاب کے وقت پر قوم کے پاس آیا ہوں تا کہ اپنے دین اسلام کیلئے عوام سے ووٹ لوں، قوم نے پھر ووٹ ڈالنا ہے اور اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ایک پاکستانی لیڈر نے تقریر کی کہ الیکشن نزدیک ہے تو مولوی صاحب کو پھر اسلام خطرے میں نظر آرہا ہے، اگر آپ اپنی لادینیت کیلئے ووٹ مانگ سکتے ہیں تو میں بھی دین اسلام کیلئے ووٹ مانگ سکتا ہوں، پاکستان حقیقی اسلامی ریاست میں تبدیل ہو گا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ پاکستان کی اسلامی ریاست کی شناخت ختم کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…