جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پارٹی کے ارکان اسمبلی پرووٹ بیچنے کاالزام لگانا عمران خان کو مہنگا پڑ گیا،معاملہ چیف جسٹس ثاقب نثار تک پہنچ گیا،کس چیز کے حصول کیلئے ہمیں بدنام کیاگیا؟نکالے جانیوالے اراکین اسمبلی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

نوشہرہ(این این آئی)ووٹ بیچنے کے الزام کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی ارکان نے معاملے کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی اپیل کردی۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں اپنی پارٹی کے 20 اراکین کو سینیٹ میں ووٹ بیچنے کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔پی ٹی آئی کے ان ارکان نے سینیٹ میں ووٹ بیچنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے

شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔پیر کونوشہرہ سے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی قربان علی کی رہائش گاہ پر ارکان اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سینیٹ الیکشن میں ووٹ فروخت کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والے ارکان صوبائی اسمبلی نگینہ خان، جاوید نسیم حیات، نرگس علی، یاسین خلیل، زاہد درانی، وجیہہ الزمان، عبید مایار، عبدالحق اور زاہد درانی سمیت سترہ ارکان نے شرکت کی۔میڈیا سے با ت چیت کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان سے از خود نوٹس لینے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی اپیل کی۔پی ٹی آئی اراکین نے کہا کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنائیں، ہمیں بھی جانچیں اور الزام لگانے والوں کو بھی جانچیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔پی ٹی آئی اراکین نے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے اس میڈیا نمائندوں کے سامنے پھاڑ ڈالا۔قربان علی، وجیہہ الزماں اور یاسین خلیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جانب سے شوکاز نوٹس انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پنجاب کو جیتنے اور شیروانی پہننے کیلئے ہمیں بدنام کیا گیا، ہم 15 روز کی مہلت دیتے ہیں اگر معافی نہ مانگی گئی تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے اور پھر ہم سب کچھ سامنے لائیں گے، پارٹی میں کالی بھیڑوں کو خٹک ڈٹرجن پاؤڈر سے نہلا کر صاف کردیا گیا ہم پوچھتے ہیں کیا امیدواروں نے پارٹی کو ٹکٹ کیلئے 4،4 کروڑ روپے نہیں دئیے؟اس موقع پر قربان علی نے شوکاز نوٹس پھاڑتے ہوئے مطالبہ کیا کہ الزامات کی جوڈیشل انکوائری کی جائے جبکہ وزیر اعلی کے مشیر عبدالحق نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…