جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کے قانون میں بڑی خامی سامنے آگئی عام انتخابات کا انعقاد کھٹائی میں پڑ گیا

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے الیکشن کمیشن کے قانون میں بڑے سقم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سقم دور نہ کیا گیا تو الیکشن کا بروقت انعقاد ممکن نہیں ہو گا،موجودہ حالات میں سیکشن 22 کی موجودگی میں بروقت الیکشن ممکن نہیں،الیکشن کمیشن سیکشن 22 اور دیگر شقوں میں تضاد کا فوری جائزہ لے،اگر یہ قانون سازی نہ کی گئی تو الیکشن کی قانونی حیثیت چیلنج ہو جائے گی۔

حلقہ بندیوں معاملے کی ٹائم لائن کی وجہ سے یہ سقم بنا،سب چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں۔ جس کے لیئے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں قانون سازی کرنا ہو گی۔جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ الیکشن قانون میں بڑے سقم کو دور نہ کیا گیا تو الیکشن کا بروقت انعقاد ممکن نہیں ہو گا،حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹی فکیشن 4 مئی کو جاری کرنے کا کہا گیا ،سیکشن 22 واضح ہے کہ حلقہ بندیوں کے بعد120 دن چاہیئے،دوسری طرف اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے 60دن کے اندر الیکشن ہونا ہے۔اگر یکم جون کو اسمبلی مدت پوری کرتی ہے تو یکم اگست تک الیکشن ہونے ہیں،موجودہ حالات میں سیکشن 22 کی موجودگی میں بروقت الیکشن ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیکشن 22 کو دیکھا جائے تو چار ستمبر سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے،دوسری طرف اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے 60دن کے اندر الیکشن ہونا ہے۔اگر یکم جون کو اسمبلی مدت پوری کرتی ہے تو یکم اگست تک الیکشن ہونے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن سیکشن 22 اور دیگر شقوں میں تضاد کا فوری جائزہ لے،الیکشن کمیشن سیکشن 22 کو سیکشن 14 کے ساتھ ملا کر پڑھے۔ اگر یہ قانون سازی نہ کی گئی تو الیکشن کی قانونی حیثیت چیلنج ہو جائے گی۔ خورشید شاہ نے مزید کہا کہ سب چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں جس کیلئے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں قانون سازی کرنا ہو گی،حلقہ بندیوں معاملے کی ٹائم لائن کی وجہ سے یہ سقم بنا،اس سقم کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…