جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سیکورٹی ادارے فوری طورپر چھاپے کا جوازبتائیں، معافی مانگیں اور ساتھ لے جانے والااسلحہ بھی واپس کریں،مولانا سمیع الحق نے بڑا مطالبہ کردیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق،سربراہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان ڈاکٹرصاحبزادہ ابوالخیرمحمدزبیر،جماعۃ الدعوہ کے امیر حافظ سعید،جے یوآئی کے مرکزی رہنما مولاناحامدالحق، مولاناشاہ عبدالعزیز،مولاناسیدیوسف شاہ اور دیگر سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے جے یوآئی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری حافظ احمدعلی کی رہائش گاہ پر

حساس ادارے کے چھاپے اور چادروچاردیواری کے تقدس کی پامالی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے مذہبی قیادت کو دبایااورجھکایانہیں جاسکتا،حافظ احمدعلی کی رہائش گاہ پر اس طرح چھاپاماراگیاجیسے وہ کوئی دہشتگرد یامفرورملزم ہوں۔انہوں نے کہاکہ حافظ احمدعلی شہرکراچی ہی نہیں ملک بھرکی جانی پہچانی مذہبی شخصیت ہیں،سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دورمیں یوسی ناظم رہ چکے ہیں، اپنے حلقے سے تمام الیکشنوں میں حصہ لیتے رہے ہیں، اس کے علاوہ بھی ملک میں چلنے والی تحاریک میں انتہائی متحرک اور فعال کرداراداکرتے رہے ہیں،مذہبی ہم آہنگی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ان کا کردارکسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے۔مذہبی وسیاسی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاہے کہ حساس اداروں کی خفیہ سرگرمیاں ناقابل فہم ہیں،رات کی تاریکی میںآٹھ سے دس گاڑیوں میں آنے والے درجنوں سادہ لباس اہلکاروں کا ملک کی ایک اہم شخصیت کے گھرمیں گھسنا،چادراورچاردیواری کا تقدس پامال کرنااور جاتے ہوئے سرکاری گن مینوں کا اسلحہ بھی ساتھ لے جاناسمجھ سے بالاترہے۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی ادارے فوری طورپر حافظ احمدعلی کے گھرپر چھاپے کا جوازبتائیں اور بلاجواز چھاپے مارنے پر معافی مانگیں اور ساتھ لے جانے والااسلحہ بھی واپس کریں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی اہم شخصیات کے ساتھ سیکورٹی اداروں کا یہ سلوک ہے تو عام افرادکے ساتھ کیاہوگا۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اس واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…