جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی ہونگے تو اپنے ملک میںہونگے، سفارتکار کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے بندے مارتا پھرے۔۔عدالت نے پاکستانی نوجوان کو کار تلے کچلنے والے امریکی دفاعی اتاشی بارے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق کمیٹی کو 5 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔بدھ کواسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے کیس کی سماعت کی اس موقع پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی تک کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمشنر آفس نے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھجوا دی ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہٹ اینڈ رن کیس میں الکوحل کا ٹیسٹ سب سے پہلے ہوتا ہے ٗپولیس نیالکوحل ٹیسٹ نہ کرا کے خود ثبوت خراب کیا ہے۔جسٹس عامر فاروق نے ایس ایچ او خالد اعوان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو کسی کا فون آیا تھا کہ سفارتی اہلکار کو جانے دیں جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ دفتر خارجہ سے فون آیا تھا جس میں امریکی اہلکار کو جانے دینے کا کہا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی استثنیٰ میں کیا بیان ہوسکتا ہے ٗکیا آپ نے بیان لیا ٗکوئی پاکستانی ایکسیڈنٹ کرے تو آپ گاڑی کے اندر شراب کی بو سونگھتے ہیں اور گورا دیکھ کر پولیس کے ہاتھ ویسے ہی کانپ گئے ہوں گے۔اس موقع پر ایس ایچ او خالد اعوان نے کرنل جوزف کا بیان عدالت میں پیش کیا جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے بیان انگریزی میں کیوں نہیں لکھا ٗکل کو کرنل جوزف کہے گا یہ اردو میں بیان ہے اور مجھے اردو نہیں آتی۔جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا آپ نے یہ بیان کس وقت ریکارڈ کیا تھا جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ تھانے میں جب وہ گاڑی کے اندر تھا اس وقت سوال کیے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سفارتی استثنیٰ ضرور حاصل کریں لیکن قانون سے گزرنا پڑیگا ٗ سفارتی استثنیٰ میں کسی کو مارنے کا اختیار حاصل نہیں، امریکی ہونگے تو اپنے ملک میں ہوں گے۔

ایس ایچ او خالد اعوان نے کہا کہ دفتر خارجہ کو تفصیلات بھجوائی ہیں کہ وہ ویانا کنونشن کے مطابق پولیس کی معاونت کرے۔عدالت نے حکم دیا کہ کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے کمیٹی 5 دن میں فیصلہ کرے اور وزارت داخلہ ہاں یا ناں میں درخواست کا فیصلہ کرے۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ قانون کے مطابق حل کیا جائے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…