واجد ضیا شریف خاندان پر عدالت میں کچھ ثابت نہ کر سکے، جے آئی ٹی نہیں بلکہ شریف خاندان خود ہی اپنی مشکلات کا ذمہ دارنکلا، کس بات پر نواز شریف جیل چلے جائینگے، کامران خان کا بے لاگ تجزیہ

  ہفتہ‬‮ 7 اپریل‬‮ 2018  |  11:36

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان کے ساتھ‘کے میزبان اور معروف صحافی و تجزیہ کار کامران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے احتساب عدالت میں دائر ریفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز فیصلہ کن اور اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، یہ وہ مرحلہ ہےکہ جس کے بعد فیصلہ آسکتا ہے۔ اس میں جو سب سے اہم گواہ ہو سکتے ہیں وہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا ہیں، جن پر مسلسل 6سماعتوں پرنواز شریف


کے وکیل خواجہ حارث زبردست جرح کر رہے ہیں، اس جرح کی جو رپورٹنگ میڈیا پر آئی ہے اس سے یہ تاثر واضح طور پر ابھر رہا ہے کہ واجد ضیا یا جے آئی ٹی کے پاس ٹھوس شواہد نہیں ہیں، ان کے پاس جوابات نہیں ہیں، اورپورا کیس ہوائی ہے، اس میں بہت زیادہ جان نہیں ہے، جے آئی ٹی کے ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹنگ یک طرفہ پہلو دکھا رہی ہے، اس کو مخصوص اور خاص وجہ سے پروجیکٹ کیا جا رہا ہے، کہا یہ جا رہا ہے کہ جے آئی ٹی نے جو کیس پیش کیا ہے اور جو سوال و جواب ہوئے ہیں اس میں اب بھی شریف خاندان کئی کلیدی معاملات سے متعلق جوابات نہیں دے پایا ہے، جے آئی ٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شریف خاندان کا کیس کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ وہ کئی اہم اور کلیدی معاملات کا جواب اب بھی دینے سے قاصر ہیں۔ مثال کے طور پر واجد ضیا کی جرح کے دوران اس سوال کا جواب شریف خاندان کے پاس نہیں ہے کہ نواز شریف نے اپنے بچوں کے نام بے نامی جائیدادیں خریدیں جبکہ بچوں کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ ان کے بچوں نے لاکھوں پائونڈز کے فلیٹس کیسے خریدے؟یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ سب سے کلیدی سوال ہے جس کا جواب اب تک نہیں ملا،اب شریف خاندان کو اپنا دفاع کرنا ہو گا اور شریف خاندان ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد اپنی بیگناہی کے ثابت کر سکے کہ پیسہ کن جائز ذرائع سے لندن پہنچا تب ہی اس کا کیس مضبوط ہو گا۔ جے آئی ٹی سے منسلک ذرائع کہتے ہیں کہ یہ بہت اہم سوال ہے جب اس وقت نواز شریف کے بچے خود کفیل نہیں تھے اور نہ ہی اپنا کوئی کاروبار کر رہے تھے تو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس وقت لندن کےیہ فلیٹ کن پیسوں سے خریدے گئے اور ان پیسوں کی منی ٹریل بہرحال شریف خاندان کو ثابت کرنی ہے۔ خواجہ حارث نے واجد ضیا پر اپنی جرح کے دوران مسلسل یہ دلائل دئیے کہ جے آئی ٹی کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ 1980میں شریف خاندان نے 12ملین درہم قطری خاندا ن کو سرمایہ کاری کیلئے نہیں دئیے۔ واجد ضیا کا جرح کے دوران جواب تھا کہ جب ایک شخص کو پہلے ہیکسی بینک کو 14ملین درہم دینا ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص اس بینک کا پرانا قرضہ دئیے بغیر دوبارہ 12ملین درہم لے کر کہیں اور سرمایہ کاری کر سکے۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ جو کہ نواز شریف کے خلاف کیس پیش کرتے ہوئے جے آئی ٹی نے جس کو بنیاد بنایا۔ جرح کے دوران واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کے کئی آپشن دئیے تھےجن میں دوحا میں پاکستانی سفارتخانے آکر بیان ریکارڈ کرانا شامل تھا لیکن قطری شہزادہ منع کرتا رہا، اس طرح قطری شہزادے نے شریف خاندان کے ساتھ مالیاتی ٹرانزیکشن کا کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔ شریف خاندان کو مالیاتی ٹرانزیکشن کا بہت اہم ثبوت چاہئے کہ یہ پیسےقطری شہزادے کے والد تک کیسے پہنچے اور پھر قطری شہزادے کےو الد سے یہ پیسہ لندن کی پراپرٹیز خریدنے اورشریف خاندان کے ساتھ کس طرح معاملات طے ہونے پر لندن کے فلیٹس ان کے نام ہوئے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کارٹرفارمولا

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎