جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

حکمران جماعت کے رہنما کے ہاتھوں صحافی کا قتل، ملزمان کی عدم گرفتاری پر چیف جسٹس کے صبر کا پیمانہ لبریز، آئی جی پنجاب نے ایک ہفتے کی مہلت کی درخواست کی تو جسٹس ثاقب نثار نے کیا حکم جاری کر دیا؟

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے سمبڑیال میں صحافی ذیشان بٹ کے قتل سے متعلق از خود نوٹس کیس میں ملزمان کو 4 دن میں گرفتار کرنے کا حکم د یدیا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملز مان ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے، آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی، بتائیں کہ ملزمان کا تعلق کس پارٹی ہے اور انہیں کس کی حمایت حاصل ہے،کیا یہ کم ہے کہ قاتلوں کا تعلق(ن)لیگ سے ہے؟۔

ہفتہ کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے لاہور رجسٹری میں سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں صحافی ذیشان بٹ کے قتل سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب پولیس عارف نواز سے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق استفسار کیا۔آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان اب تک گرفتار نہیں کئے جاسکے تاہم ایک ہفتے میں انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ملزمان ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے، آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی، بتائیں کہ ملزمان کا تعلق کس پارٹی ہے اور انہیں کس کی حمایت حاصل ہے۔عدالتی استفسار پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ملزمان کا تعلق(ن)لیگ سے ہے لیکن انہیں کسی کی بھی سپورٹ نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ملزمان کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)سے ہے کیا یہ کم ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیں، جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے گئے ہیں۔ عدالت نے آئی جی پنجاب عارف نواز کی ایک ہفتے کی مہلت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چار دن کی مہلت دے دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…