جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کی تیاریاں

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے تجاویز دی ہیں۔پاما کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اضافی ڈیوٹی سے صنعت متاثر ہوئی ہے۔ کچھ ایس آر اوز میں چھوٹ کے ذریعے بھی قیمتوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سٹیل پر 5 فیصد سے 30 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کی ہوئی ہے۔

یہ سٹیل شیٹس آٹو انڈسٹری کا بنیادی خام مال ہے اور ملک میں تیار نہیں کیا جاتا اور اس کا صنعت پراثر پڑتا ہے جو تقریباً 3 ہزار روپے سے 5 ہزار روپے تک ہے۔ اس لیے اس ضمن میں امپورٹ پر چھوٹ دی جائے جس طرح ایس آر اوز کے تحت دیگر صنعتوں کو دی گئی ہے۔پاما نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 148 میں ترمیم کی جائے تا کہ خام مال، پلانٹ اور مشینری پر ود ہولڈنگ کی شرح کم ہو سکے اور اسے 5.5 فیصد سے 1 فیصد تک لایا جائے۔ چھوٹ کے سرٹیفکیٹ کے اجرا ء کے مراحل کو بھی آسان بنایا جائے۔ ای ڈی بی کی تجویز کے مطابق اشیا ء پر ایکسپورٹ آئٹم پر ود ہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 0.5 فیصد کیا جائے تا کہ مارکیٹ میں مسابقت کا مقابلہ کرتے ہوئے برآمدی ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ایکسپورٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے انجینئرنگ مصنوعات کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے جو صنعت کے لیے بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔ پاما نے کہا کہ ایلومینیم الائے پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ سٹیل انڈسٹری کو تحفظ دینے کے لیے عائد کیا گیا تھا۔پاما نے سپر ٹیکس کو بھی امتیازی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا کہ اس کے خاتمے سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ پاما نے کہا کہ ابتدائی الاؤنس کی شرح کو بحال کیا جائے جو پہلے پلانٹ اور مشینری کے لیے 50 فیصد اور بلڈنگز کے لیے 25 فیصد تھا ۔ اسی طرح ٹیکس کریڈٹ کو بھی بحال کیا جائے۔اسی طرح پاما نے ٹیکس کریڈٹ بحال کرنے کی بات کی اور ایف بی آر کے ایشو میں رجسٹرڈ سپلائر سے خریداری کے ضمن میں جرمانے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…