ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

بڑی فوج اور امریکہ کی حمایت کے باوجود مقبوضہ کشمیر اب اس کے ہاتھ سے نکل رہاہے،پاکستان کی حکمران جماعت ن لیگ نے کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟سینئرصحافی کے انکشافات

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی و کالم نگار ہارون الرشید نے اپنے کالم میں لکھا کہ چاروں طرف سے زعفران کے کھیتوں میں گھرے شوپیاں شہر میں کشمیری نوجوانوں کے قتلِ عام سے، ایک بار پھر آشکار ہوا کہ بھارت ہار گیا ہے۔ وہ گردنیں تو کاٹ سکتا ہے کہ فوج اس کی بڑی ہے

اور امریکہ سمیت سارا مغرب پشت پناہ لیکن کشمیریوں کے دل اب وہ کبھی نہ جیت سکے گا۔بھارتی اب ان کے لیے اجنبی ہیں۔ اب اس کی کوئی سیاسی اور سفارتی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کشمیر کی گلیوں میں سونے کے ڈھیر بھی وہ لگا دے تو وہ اسے قبول نہ کریں گے۔ خوف دلوں سے نکل گیا ہے اور جب خوف ختم ہو جائے تو استعمار کے فنا ہونے کا وقت قریب آ جاتا ہے۔ کشمیر کی آزادی کا روزِ سعید کس طرح طلوع ہو گا۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے۔ یہ مگر یاد رہے کہ انسانی تقدیروں کے فیصلے زمین نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں کشمیریوں کی مدد کرنے والا اب کوئی نہیں۔ کوئی بھرپور عالمگیر سفارتی مہم تو کجا، کسی نے کل جماعتی کانفرنس کا خیال تک پیش نہ کیا، جہاں ایک قرار داد پیش کی جاتی۔ ایک حیران کن بات یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نون لیگ کے سربراہ کشمیریوں کے قتلِ عام پر ایک بیان تک جاری کرنے کے روادار نہیں۔ اب پرویز رشید ان کے سب سے اہم اتالیق ہیں اور پرویز رشید وہ ہیں، جنہوں نے اپنی پچاس سالہ سیاسی زندگی میں قائدِ اعظم اور تحریکِ پاکستان کے حق میں کبھی ایک جملہ بھی ارشاد نہ کیا۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے کہ بسر کرنے کے دو طریقے ہیں: آدمی زندگی پر سوار ہو جائے ورنہ زندگی آدمی پر سوار ہو جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…