ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف ،مریم نواز اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت ،ایک اور اہم جج نے انکارکردیا ،چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)سابق وزیراعظم محمد نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کے لئے تشکیل دیا گیا فل بینچ تیسری مرتبہ بھی تحلیل ہوگیا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چوتھی بار نیا بینچ تشکیل دیدیا۔لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم محمد نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی بنیاد پر توہین عدالت کی ایک درجن سے

زائد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے دو سنگل بینچوں کے روبرو یہ درخواستیں زیر سماعت تھیں تاہم جسٹس مظاہر نقوی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے معاملہ اہم نوعیت کا ہونے کی بناء فل بینچ بنانے کی درخواست کی تھی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی نے درخواستوں کی سماعت کے لئے فل بینچ تشکیل دیا تھا جو 31 مارچ کو بینچ کے ایک رکن جسٹس شاہد حسن بلال کے ملتان تبادلے کے باعث ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس نے جسٹس شاہد مبین کو بینچ میں شامل کرکے نیا بینچ تشکیل دیا تھا۔2 اپریل کو جسٹس شاہد مبین نے ذاتی وجوہات کی بنا پر درخواستوں پر سماعت سے معذرت کی تھی جس پر چیف جسٹس نے ان کی جگہ جسٹس شاہد جمیل خان کو بینچ میں شامل کرکے نیا فل بینچ تشکیل دیا۔جسٹس شاہد جمیل خان نے بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر درخواستوں کی سماعت سے معذرت کرلی جس کے بعد بینچ تیسری مرتبہ تحلیل ہوگیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی نے جسٹس شاہد جمیل کی جگہ اب جسٹس مسعود جہانگیر کو شامل کرکے نیا فل بینچ تشکیل دیاہے۔جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل تین رکنی بینچ پیر سے درخواستوں پر سماعت کرے گا۔درخواست گزار وں نے موقف اپنایا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز سمیت دیگر لیگی رہنما مسلسل عدالت کی توہین کررہے ہیں لہٰذاعدالت ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…