ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر کمیٹی کا چیئرمین اور 5 سال میں صرف 8 اجلاس اور کیا کروں؟ کیا بھارت پر حملہ کر دوں؟ مولانا فضل الرحمان نے مسئلہ کشمیر کا مذاق بنا ڈالا، کیا کچھ کہتے رہے؟ افسوسناک صورتحال

datetime 3  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی میڈیا نمائندوں سے کشمیر کے حوالے سے گفتگو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، جب ایک صحافی نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سوال پوچھا کہ آپ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں

اور آپ نے پانچ سالوں میں صرف آٹھ اجلاس بلائے ہیں تو کیا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے آپ کی اتنی ہی ذمہ داری بنتی ہے؟ جس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تو کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں، آپ ساتھ دیں گے، یہ کہنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے قہقہہ لگاتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ آپ وہ سوال کریں جو مسئلے سے مطابقت رکھتا ہو۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان کے کشمیر کے حوالے سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ جواب پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا، انہوں نے کہا کہ نہتے کشمیریوں پر بھارت دن رات حملے کر رہا ہے اور کشمیری عوام ایک خوف کی زندگی گزار رہے ہیں اور اس پر مولانا فضل الرحمان کے بیان نے ہمیں شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ جب ایک صحافی نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سوال پوچھا کہ آپ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور آپ نے پانچ سالوں میں صرف آٹھ اجلاس بلائے ہیں تو کیا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے آپ کی اتنی ہی ذمہ داری بنتی ہے؟ جس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تو کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں، آپ ساتھ دیں گے، یہ کہنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے قہقہہ لگاتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ آپ وہ سوال کریں جو مسئلے سے مطابقت رکھتا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…