منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں یکساں ٹیرف؛ بجلی کے نئے نرخوں کا اعلان کب متوقع؟ تاریخ سامنے آ گئی

datetime 12  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف نافذ کرنے کے لیے نئے نرخوں کے اعلان کی توقع ہے اور اس حوالے سے ممکنہ تاریخ بھی سامنے آ گئی ہے۔نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نیپرا میں دائر درخواست پر سماعت چیئرمین وسیم مختار کی سربراہی میں ہوئی، جس میں ملک بھر کے صارفین کے لیے یکساں بجلی ریٹ نافذ کرنے کی تیاری زیرِ غور رہی۔وفاقی حکومت نے نئی کنزیومر اینڈ ٹیرف درخواست کے ساتھ موجودہ ٹیرف نوٹیفکیشن میں ترامیم کی تجویز بھی نیپرا کے سامنے پیش کی ہے۔

اس کے علاوہ کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بھی یکساں ٹیرف کے نفاذ کی درخواست کی گئی ہے، جس پر نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت نظرثانی شدہ ٹیرف نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نئے بجلی نرخوں کا اطلاق 15 جنوری سے متوقع ہے۔نیپرا سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 26 فیصد کمی کی گئی ہے، جس کے بعد صنعتی ٹیرف 62.99 روپے سے کم ہو کر 46.31 روپے فی یونٹ ہو گیا ہے۔ اسی طرح کراس سبسڈی 225 ارب روپے سے کم ہو کر 102 ارب روپے کر دی گئی، یعنی 123 ارب روپے کی نمایاں کمی کی گئی ہے۔مزید بتایا گیا کہ قومی اوسط بجلی نرخ 53.04 روپے سے کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔ زرعی صارفین کے لیے 16 فیصد، کمرشل صارفین کے لیے 10 فیصد، جنرل سروسز کے لیے 12 فیصد اور بلک صارفین کے لیے 15 فیصد کمی کی گئی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں نرخوں میں 46 فیصد کمی کی گئی ہے۔دورانِ سماعت صنعتی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ چین میں صنعت کے لیے بجلی کی قیمت 5 سے 7 سینٹ ہے جبکہ پاکستان میں 13 سینٹ فی یونٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 5 سینٹ نہیں مانگ رہے لیکن کم از کم 9 سینٹ پر ٹیرف ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ نرخوں پر صنعتیں نہیں چل سکتی ہیں۔

صنعتی صارفین نے یہ بھی کہا کہ انڈسٹری ٹیرف میں سے کراس سبسڈی ختم کرنا ہوگی، کیونکہ وہ اس وقت 131 ارب روپے کی سبسڈی ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی ٹیرف کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پالیسی کا مسئلہ ہے اور ملک میں کراس سبسڈی سیاسی نوعیت کی ہے۔پاور ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سبسڈیز کو ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ٹیرف میں کوئی اضافی بوجھ نہیں ہو رہا۔ جولائی سے اب تک توانائی کے مکس میں تبدیلی کے باوجود حکومت نے نرخوں میں رد و بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الوقت تمام کیٹیگریز کے صارفین کو 629 ارب روپے کی سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں۔نیپرا نے سماعت مکمل ہونے کے بعد کہا کہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا اور پاور ڈویژن کی جانب سے بلنگ سرکل میں فیصلہ جاری کرنے کی استدعا پر اتھارٹی نے جلد فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…