اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور معاشی بے یقینی کے اثرات کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی ہیں۔
پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں سونے نے پہلی مرتبہ 4,600 ڈالر فی اونس کی حد عبور کی، جبکہ چاندی کی قیمت نے بھی ریکارڈ سطح کو چھو لیا۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونا 4,469.49 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، تاہم کاروبار کے دوران قیمت 4,600.33 ڈالر فی اونس تک بھی گئی۔ اسی طرح فروری ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,591.10 ڈالر پر ٹریڈ ہوتے رہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعات اور جغرافیائی خطرات نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی جانب مائل کیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ادھر امریکا میں روزگار سے متعلق کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد یہ توقع مزید مضبوط ہوئی ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں سال کم از کم دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ فیصلے نے بغیر منافع دینے والی دھاتوں، بالخصوص سونے اور چاندی، کی کشش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کی قدر میں کمی نے بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو سہارا دیا۔
چاندی کی بات کی جائے تو اس کی قیمت میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 82.72 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ سیشن کے دوران 83.96 ڈالر کی تاریخی بلند سطح بھی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح پلاٹینم کی قیمت میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 2,345.40 ڈالر فی اونس پر آ گئی، تاہم گزشتہ ماہ پلاٹینم 2,478.50 ڈالر کی سطح تک بھی پہنچ چکا ہے۔















































