اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کوہستانی پٹی میں واٹرسپلائی اورآراو پلانٹ التوا کا شکار ، پانی کی شدید قلت

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

ٹھٹھہ (این این آئی) کوہستانی پٹی میں واٹرسپلائی اورآراو پلانٹ التوا کا شکار ، پانی کی شدید قلت، علاقے میں قحط کی صورتحال ، اسکیموں میں کرپشن کا انکشاف ، کوہستانی پٹی کے نواحی گاؤں خان محمد خاصخیلی ، چاڑھی گوٹھ ، امام ڈنو خاصخیلی ، کاری موری ، پیرمحمد گجن ، جڑیل برفت ، صالح محمد برفت ، ساڈھورو، ماما علی نوازجوکھیو سمیت کوہستان کے درجنوں گا ؤں میں سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کے 1988 کے دور حکومت میں واٹرسپلائی کی اسکیمیں تعمیر کے لیے شروع کی گئی تھی۔

30 سال گذرنے کے باوجود تاحال مکمل نہ ہوسکی ہے این این ائی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ افسران نے کمیشن کے عیوض تمام اسکیموں کے نام پر وقت بہ وقت کروڑوں روپے کے ٹینڈر جاری کرکے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان دیا ہے ، پیپلزپارٹی کے موجودہ دور حکومت میں یوسی جھمپیرمیں درگاھ امیرپیراور گاؤں علی حسن بروھی ، لیموں بروھی ، محمد خان بھارچ ، جانوری گوٹھ میں واٹر سبلائی اسکیموں کی لائینیں بھی بچھائی گئی ہے جوکہ تمام اسکیمیں کرپشن کے نذر ہوگئی ہے ، اور 4 سال گذرنے کے باوجود تا حال مکمل نہ ہوسکی ہے ، کوہستانی پٹی کے گاؤں جمعوں بکک، عثمان ھیجب ، گاوں رمضان ھیجب میں سال 1985 کے دوران واٹرسپلائی کی اسکیمیں شروع کی گئی تھی ،وہ بھی افسران کے کرپشن کے نذر ہوگئی ہے ، حکومت سندھ ، نیب اور دیگرعوامی اداروں میں تحریری شکایات دینے کے باوجود کوئی نوٹیس نہیں لیا گیا ہے ، کوہستانی پٹی کے مکینوں کے لیے حکومت سندھ نے بڑی آبادی والے 10 گاوں میں آر او پلانٹ لگاکرمکینوں کو صاف پانی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ، لیکن پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے گاؤں کاروپالاری ، ریلوی اسٹیشن برادیہ آباد ، سچی ڈنو پالاری سمیت درجنوں گا وں میں اعلانیہ آر او پلانٹ التواکے شکار ہے۔

علاقے کے مکین اسد گوپانگ ، محمد ایوب ، سکندر بکک ، خدا بخش ، شاھ محمد چانگ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ کوہستانی پٹی میں میٹھی پانی کی قلت کی وجہ سے درجنوں گاؤں میں جرء کا پانی زہریلہ ہو گیا ہے ، کوہستانی پٹی کی صورتحال پر حکومت سندھ ، منتخب نمائندوں اور متعلقہ افسران کو بار بار شکایت اور تحریری آگاہی کے باوجود کوئی بھی نوٹیس نہیں لیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے کوہستان میں قحط کی صورتحال نے جنم لیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…