اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

رحیم یارخان میں کئی گھنٹے بعد بھی ڈاون ٹریک بند، کئی ٹرینیں تاخیر کا شکار

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

رحیم یارخان/لاہور(سی پی پی) رحیم یارخان میں 40 گھنٹے گزر گئے، اب تک ڈاون ٹریک کو بحال نہیں کیا جا سکا۔ جس کی وجہ سے 9 ٹرینیں مختلف اسٹیشن پر کئی گھنٹوں سے روکی ہوئی ہیں جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر پر ہنگامی اجلاس میں مسافروں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، کھانے پینے کی اشیا اور پینے کا پانی ختم ہو چکا ہے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک سے بوگیاں ہٹادی گئیں ہیں اور ٹریک کو جلد بحال کرکے تمام مسافر ٹرینوں کو روانہ کردیا جائے گا۔ریلوے حکام کے مطابق شالیمار خانپور، زکریا ایکسپریس صادق آباد، فرید ایکسپریس ماچھی گوٹھ، نائٹ کوچ تیزگام اور گرین رحیم یارخان پر رکی ہوئی ہے۔ جبکہ خیبر میل ریتی اسٹیشن، شالیمار ڈہرکی، ہزارہ گھوٹکی، جعفر پنو عاقل اور کوئٹہ ایکسپریس روہڑی اسٹیشن میں کھڑی ہیں۔کوئلے سے بھری مال گاڑی کراچی سے داود خیل جارہی تھی کہ منگل کی شام رحیم یارخان سے ترنڈہ کے درمیان ٹریک کی پلی بیٹھ جانے سے مال گاڑی کی 8 بوگیاں الٹ گئیں تھیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر ہونے پر ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے مسافروں کو ریلیف دینے کی ہدایات جاری کردی۔ریلوے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اس ہنگامی اجلاس میں سی ای او پاکستان ریلویز اور جی ایم ریلوے سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں سکھر ڈویژن میں مال گاڑی کے حادثے کے بعد ریلیف آپریشن میں غیر معمولی تاخیر پر بات ہوئی۔وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمارے مسافر ہمارے مہمان ہیں، پاکستان ریلویز کی طرف سے تاخیر کا شکار ٹرینوں کے مسافروں کو صبح ناشتہ پاکستان ریلوے کی طرف سے پیش کیا جائے گا۔خواجہ سعد رفیق نے اعلان کیا کہ بارہ گھنٹے یا اس سے زیادہ تاخیر کا شکار ہونے والی ٹرینوں کے مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر آدھے کرائے کے برابر معاوضہ ریلوے اسٹیشن سے ہی واپس وصول کر سکتے ہیں۔مسافر ریلوے بکنگ آفس میں اپنے ٹکٹ دکھا کے کرایہ کلیم کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…