اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے عوام کا تیل نکالنے کے بھی ریکارڈ توڑ دیئے، صرف 13ماہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں کتنا بڑا اضافہ کیاگیا؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

کر اچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مہاجر قومی موومنٹ ( پاکستان) کے سیکریٹری جنرل شاہد فراز نے کہا کہ گزشتہ13ماہ میں پیٹرول مصنوعات میں 30روپے کا اضافہ حکومتی بے حسی اوربد نیتی کا کھلا ثبوت ہے، ماہانہ کی بنیاد پر پیٹرول پرائسز میں اضافے کا مقصد غریب عوام کو مہنگائی کے طوفان میں جھوکنے کی پالیسی کا تسلسل ہے جولوگوں میں نفرتوں اور دوریوں کو پروان چڑھانے کا سبب بن رہا ہے،

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتوں کی جانب سے سبسڈی اور سہولیا ت فراہم کی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں حکمران مہنگائی کے زریعے عوام کو زندہ درگورکرنے کی پالیسی پر عمل پیراہ ہیں۔شاہد فراز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سال کا پہلا تحفہ سال 2018کے آغاز پر یکم جنوری کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دیا گیاجس میں 4.06 کااضافہ کیا،اگلے ماہ یکم فرور ی میں 2.98 کااضافہ کیا گیا،جبکہ یکم مارچ بھی حکومتی بے حسی اور سفاکیت سے بچ نا سکااور بلاآخر سال کے تیسرے مہینے میں تیسری بار پیٹرول مصنوعات میں اضافہ کرکے ثابت کردیا کہ حکمران عوام کو صرف اپنا غلام بناکر انکی مجبوریوں کواپنے مفادات کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔شاہد فرازنے کہا کہ اوگرا کی جانب سے بھیجے جانے والی سمری اور حکومت کی منظوری آپسی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہے،صرف عوام کو بے وقوف اور احمق بنانے کیلئے گمران کن حربے رچائے جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ کی بدولت اقتدار کے ایوانوں میں براجمان عوامی نمائندے ہی عوامی خواہشات اور ارمانوں کا جنازہ نکالتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ حکمران عوامی مسائل اور مشکلات کے حل میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔شاہد فراز نے کہا کہ ہم عوام کی جانب سے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ ناصرف حکومت کی جانب سے پیٹرول مصنوعات میں اضافے کی فیصلے کو واپس لینے کے احکامات جاری کئے جائے بلکہ حکومت کوپابند کیا جائے پرائس کنٹرول کے ادارے ،عدلیہ اور عوامی نمائندوں کی باہمی مشاورت سے موثر اور منظم ضابطہ اخلاق وضح کیا جائے جس میں قیمتوں میں توازن کیلئے نا صرف موثر قانون اور نظام تشکیل دیا جائے بلکہ عملدرآمدکو بھی یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…