اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

”باپ کی بیٹی کے ساتھ زیادتی“ کیس کی اصل کہانی کھلنے پر معزز جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی رو پڑے، کیا فیصلہ سنا دیا؟افسوسناک صورتحال‎

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

بیٹی کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے الزام کے مقدمے کی سماعت کے دوران الزام لگانیوالی والدہ کے سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی آبدیدہ ہوگئے، دوران سماعت لڑکی کی جانب سے نزیراں ملک ایڈووکیٹ جبکہ بچی کے والد مجرم جو کہ اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھاکی جانب شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے بیٹی سے بداخلاقی کے

الزام میں ماتحت عدالت سے 25سال قید کی سزا دئیے جانے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت والدہ کی جانب سے عدالت میں سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت آبدیدہ ہوگئے جب بچی کی والدہ نے عدالت کو بتایاکہ وہ اپنے دوست کے ساتھ دوسری شادی کرنا چاہتی تھی اس لئے اپنے شوہر کے خلاف جھوٹا الزام لگایا جس پر شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو شرم نہیں آئی ،اپنے شوہر پر اتنا بڑا جھوٹا الزام لگایا جس سے نہ صرف اس کی نوکری چلی گئی بلکہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جل رہا ہے، آپ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جس پر خاتون کی جانب سے عدالت سے معافی کی استدعا کردی گئی ۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی مذکورہ کیس پر ریمارکس دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔بعدازاں عدالت نے سچ سامنے آنے کے بعد پولیس کانسٹیبل کو بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ۔واضح رہے نجی ٹی وی پر پروگرام نشر کئے جانے کے اسلام آباد کے تھا نہ کورا ل پولیس نے باعزت بری ہونے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بیٹی کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے الزام کے مقدمے کی سماعت کے دوران الزام لگانیوالی والدہ کے سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی آبدیدہ ہوگئے، دوران سماعت لڑکی کی جانب سے نزیراں ملک ایڈووکیٹ جبکہ بچی کے والد مجرم جو کہ اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھاکی جانب شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے بیٹی سے بداخلاقی کے الزام میں ماتحت عدالت سے 25سال قید کی سزا دئیے جانے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…