اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

گھریلو ملازم کو قید میں رکھنے اور انتہائی شرمناک سلوک کے الزامات، آسٹریلوی عدالت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے خلاف مقدمہ سماعت کیلئے منظور کرلیا ،افسوسناک انکشافات

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلوی عدالت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے خلاف مقدمہ سماعت کیلئے منظور کرلیا ہے اور پاکستانی ہائی کمشنر نائلہ چوہان کو عدالت میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے باقاعدہ سمن جاری کردیئے ہیں‘ ہائی کمشنر پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ملازم سے کام کروا کر ان کے حقوق پامال کئے آسٹریلوی عدالت نے انسانی حقوق کی پامالی کا سختی سے نوٹس لے لیا اور نائلہ چوہان کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے کرپشن میں ملوث ہونا اہل سفارت کاروں نے بیرون ممالک میں بھی پاکستان کو جگ ہنسائی کا موجب بنے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نائلہ چوہان کے ملازم کے انسانی حقوق کی عدالت میں الزام عائد کیا ہے کہ اسے گھریلو ملازمت کے دوران ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور رہنے کی مناسب سہولیات فراہم نہ کرنے کے علاوہ زیادہ وقت کام کروایا گیا ہے 19 ماہ تک وہ مسلسل تہہ خانے میں سونے کے لئے کم جگہ دی گئی اور زیادہ اوقات میں کام کروایا گیا ہے ۔ عدالت نے ہائی کمشنر کو طلب کرکے جواب داخل کرانے کے سمن جاری کئے ہیں ادھر آسٹریلیا میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے دفتر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے سفارتکاروں کو واپس بلایا جائے جو دوسرے ممالک میں پاکستان کا نام بدنام کررہے ہیں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے انکوائری کا حکم جاری کردیا ہے۔ انکوائری کی مکمل رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی ہوسکتی ہے ۔ نائلہ چوہان جو آسٹریلیا میں اپنی مدت مکمل کرکے واپس آنے والی تھی وہ عدالت میں پیش ہوئے بغیر وطن پہنچ گئی ۔ آسٹریلوی اخبار نے وعدہ کیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے لہذا اسے فوراً واپس بھیجا جائے آسٹریلیا میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پاکستانی ہائی کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ طیبہ تشدد کیس کے بعد پاکستان میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات عام ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…