بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

احد چیمہ کی گرفتاری۔۔پوری کی پوری ن لیگ کی جان شکنجے میں پھنس گئی۔۔لیگی رہنما ئوں کے بیانات کچھ اور کہانی بیان کرنے لگے

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد جہاں بیوروکریسی میں بے چینی کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں وہیں اب حکمران جماعت ن لیگ کی جانب سے بھی نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونیوالے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے حوالے سے آوازیں اٹھنے لگ گئی ہیںاور عدلیہ کے بعد ن لیگ کی توپوں کا رخ اب نیب کی جانب بھی ہو چکا ہے۔

احد چیمہ کی گرفتاری پر بات کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ نیب دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھے، صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سول افسران کے خلاف عمران خان کی گفتگو انتہائی قابل افسوس ہے، سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو سوچنا چاہئے کہ وہ جو فیصلے دے رہی ہے آیا وہ مستقبل میں ان فیصلوں کا دفاع بھی کر سکے گی یا نہیں ، اسٹیبلشمنٹ نے سینٹ الیکشن میں پری پول دھاندلی کی ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری پر ن لیگی رہنما برہم ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سیاستدان ہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوتے ہیں، مہذب شہریوں کو بکتر بند گاڑیوں میں دہشتگردوں کی طرح عدالت میں پیش کیا جانا ٹھیک نہیں، نیب کی جانب سے تذلیل آمیز رویہ کسی طور درست نہیں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کو یہ دیکھنا چاہئے کہ انویسٹی گیشن کے مرحلے پر آپ لوگوں کو دہشتگردوں کی طرح بکتر بند گاڑیوں میں بٹھا کر عدالتوں میں پیش کریں گے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ احد چیمہ ہماری حکومت سے پہلے بھی مختلف منصوبوں کے انچارج رہ چکے ہیں، عمران خان آج تک ایک بھی الزام ثابت نہیں کر سکے۔پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنا اللہ

نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بے شرم اور بے عزت انسان نے سول آفیسرز سے متعلق جو گفتگو کی ہے وہ قابل مذمت ہے، ہم نے ہر مرحلے پر اسے چیلنج کیا ہے اور جب یہ ہر جگہ غلط ثابت ہوا تواس کے بعد اس نے بات ہی نہیں کی۔۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان کو سوچنا چاہئے کہ کیا وہ کل اپنے دئیے گئے فیصلوں کا دفاع کر سکیں گے ،یہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…