پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب میں اربوں کی کرپشن ، حکمرانوں کا شاہانہ طرز زندگی تو دوسری طرف عمران خان نے سادگی اور شفافیت کی عمدہ مثال قائم کر دی سرکاری مہمان ہونے کے باوجوداپنے کھانےتک کا بل ادا کرتے رہے

datetime 25  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی ڈان نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان سے جب ہیلی کاپٹر سکینڈل سے متعلق سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے خیبرپختونخواہ حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا۔ مجھ پر الزام عائد کیا گیا کہ خیبرپختونخواہ حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کے حوالے سے 20لاکھ روپے خرچ کئے ۔ مجھے خیبرپختونخواہ حکومت

پراجیکٹس کو پرموٹ کرنے کیلئے دعوت دیتی تھی جس پر میں وہاں جاتا تھا ۔ ان پروجیکٹس میں بلین ٹری سونامی اور سیاحتی مقامات کی پروجیکشن شامل تھے۔ نتھیا گلی میں میں نے وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ استعمال کی ، وہاں جا کر آج بھی وہاں کے بل دیکھے جا سکتے ہیں ، میں نے کھانے کے پیسے اپنی جیب سے ادا کئے ہیں۔ عمران خان کا کہناتھا کہ 4 سال کے بعد اگر یہ ہیلی کاپٹر کے 20لاکھ روپے کا کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں کچھ نہیں ملا۔ ہم نے نیب کو کہا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ ایک طرف 4سال بعد 20لاکھ کا الزام اور دوسری طرف پنجاب میں آشیانہ ہائوسنگ سکیم میں کروڑوں کی کرپشن ، قائداعظم سولر پروجیکٹ ، نندی پور جیسے پراجیکٹ ہیں جہاں اربوں کی کرپشن سامنے آئی ہے۔واضح رہے کہ خیبرپختونخواہ میں بلین ٹری سونامی میں خوردبرد کے الزامات کے بعد عمران خان پر خیبرپختونخواہ حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا بھی الزام سامنے آیا ہے جس کی تحقیقات نیب نے شروع کر دی ہیں۔ عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری ہیلی کاپٹر کا ذاتی استعمال کیا ہے جس پر عمران خان نے نیب کو تحقیقات کرنے کا کہتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…