پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ کرپشن کیس ،نیب کی ایک اور بڑی کارروائی،14 ارب مالیت کا کنٹریکٹ جعلی کاغذات کی مدد سے حاصل کرنے والااہم ملزم گرفتار،چونکادینے والے انکشافات

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی)قومی احتساب بیورو ( لاہور) نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ کرپشن کیس میں کارروائی کرتے ہوئے بسم اللہ انجینئرنگ سروسز کے پارٹنر ملزم شاہد شفیق عالم کوگرفتار کر لیا ۔نیب ترجمان کے مطابق ملزم کو پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی انکوائری میں تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا،ملزم شاہد شفیق کی ملکیتی بسم اللہ انجینئرنگ سروسز، پیراگون سٹی کی سی 4 کیٹیگری کی ذیلی کمپنی ہے،پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی سے 20جنوری 2015کو معاہدہ کیا گیا

جس میں 16ہزار غریب شہریوں نے آشیانہ اقبال کیلئے 61کروڑ روپے جمع کروائے،تین سال گزرجانے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، ترجمان نیب کے مطابق کاسا کمپنی تین کمپنیوں بسم اللہ انجینئرنگ سروسز، سپارکو اور چائنہ فرسٹ گروپ کا جوائنٹ ونچر ہے،قانونی طور پر کمپنیوں کو 15 کروڑ روپے سے زائد رقم کا معاہدہ دیا جانا غیر قانونی ہے،ترجمان کے مطابق جعلی کاغذات کے ذریعے میسرز ایم ایس سپارکو،بسم اللہ کنسٹرکشن اور میسرز چائنہ فرسٹ نامی کمپنی کو جوائنٹ ونچر کے طور پر پیش کیا گیا۔کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 1000 ملین سے زائد رقم کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ترجمان کے مطابق بسم اللہ انجینئرنگ سروسز پیراگون سٹی کی ملکیت ہے۔ترجمان کے مطابق ملزم کو الزامات کے دفاع کا باقاعدہ موقع فراہم کیا گیا تھا۔ملزم شاہد شفیق نے ایل ڈی اے اہلکاروں کی ملی بھگت سے 14 ارب مالیت کا کنٹریکٹ جعلی کاغذات کی مدد سے حاصل کیا۔ملزم کے ممکنہ روپوش یا ملک سے فرار ہونے کی اطلاع پر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ترجمان کے مطابق ملزم شاہد شفیق کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…