پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

گزشتہ ماہ کوہاٹ میں قتل ہونے والی عاصمہ رانی کے قاتلوں کا کیا بنا؟ عاصمہ کے اہل خانہ اب کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

کوہاٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) کوہاٹ میں گزشتہ ماہ میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو قتل کر دیا گیا، اب اس کے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ مطابق متاثرہ خاندان کی جانب سیپشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے یہ مقدمہ پشاور منتقل کیا جائے۔

مقتولہ عاصمہ رانی کے بھائی محمد عرفان نے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ کیس میں پکڑے گئے ملزم شاہ زیب کی ضمانت کی درخواست کی سماعت بھی پشاور منتقل کی جائے کیونکہ وہ کوہاٹ میں مقدمے کی پیروی نہیں کر سکتے۔ واضح رہے کہ مقتولہ عاصمہ رانی کا خاندان کوہاٹ میں رہائش پذیر ہے اور ملزم شاہ زیب کا خاندان مقامی سطح پر اثر و رسوخ کا حامل ہے جس کے اثرات مقدمے پر ہو سکتے ہیں، مقتولہ عاصمہ رانی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ملزم کے اثر و رسوخ کی بدولت کوئی وکیل ان کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحیٰ آفریدی نے اس درخواست کی سماعت کی اور ملزم پارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس سے ایک ہفتے میں مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے وکیل فاروق ملک اور غلام محی الدین ملک نے عدالت سے کہا کہ عاصمہ رانی کے خاندان اور وکلا کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں اس وجہ سے وہ سیشن کورٹ میں مقدمہ کی پیروی نہیں کر سکتے۔ وکلاء نے کہا کہ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اس مقدمے کو پشاور ہائی کورٹ میں منتقل کیا جائے۔ واضح رہے کہ عاصمہ رانی کے خاندان والوں نے مجاہد اللہ آفریدی کے ساتھ شادی کرنے کی تجویز مسترد کی تھی جس پر اس نے عاصمہ رانی کو قتل کر دیا تھا اور خود بیرون ملک فرار ہو گیا تھا لیکن ابھی تک اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…