جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کی پیر تک مہلت کی درخواست منظور کر لی

datetime 16  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کی پیر تک مہلت کی درخواست منظور کر لی ہے جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیر صدیقی کی عدالت میں نجی ٹی وی کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی نوائے وقت کی گروپ مالکن اور مطیع اللہ جان ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے، دوران سماعت مطیع اللہ جان کا پورا پروگرام دکھایا گیا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پروگرام میں متعدد بار ثاقب نثار، ثاقب، شوکت صدیقی کہہ کر پکارا گیا ہے ،چار سال پہلے بھی عدلیہ مخالف پروگرام کیا گیا کیوں نہ آپکا لائسنس منسوخ کیا جائے، عدالت نے مذید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ایک اینکر کہے گا کہ یہ قانونی یا غیر قانونی ہے، آپ لوگ بلیک میل کرتے ہیں کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں؟ کل پرسوں جیو نے تماشا لگایا ہوا تھا اس کو بھی نوٹس کرتے ہیں، عدالت نے پیمراء4 سے جیو کے پروگرام رپورٹ کارڈ کا ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا اینکر کی ٹریننگ دیکھی جاتی ہے، سوسائٹی میں فساد نہ ڈالیں،جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا آپ پوری عدلیہ کو بدنام کر رہے ہیں،اس معاملے کو ختم نہیں کرونگا،ہمارے گھر میں نوائے وقت اخبار ایک مقدس اخبار سمجھا جاتا ہے، پروگرام میں سپریم کورٹ کے نوٹس کو کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے پیش کیا گیا، ایک وکیل رہنما نے عدالت میں کہا کہ یہ اپنے گھر میں بھی ادب نہیں کرتے ہیں اپنے باپ کی بھی عزت نہیں کرتے، جس پر مطیع اللہ جان نے جواب دیا کہ انہیں کہیں اپنی حدود میں رہیں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پھر ریمارکس دیے کہ آپ نے اتنا پڑا پروگرام بغیر تحقیق کے کر دیا، ہم وضاحت نہیں دے سکتے اس کا مطلب یہ نہیں کہ قتل کرنے کا لائسنس مل گیا،ہمارے چیف جسٹس کا نام لینے کا سلیقہ اپ کو نہیں ہے۔

سول جج کے حکم کو غیر قانونی کہنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا، میں نے23 سال بے داغ وکالت کی،سی ای او وقت ٹی وی رمیزہ نظامی نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں نوٹس نہ کریں ، عدالت نے حکم دیا کہ آپ لوگ فیصلہ کریں کہ آپ نے معافی مانگنی ہے یا کیس لڑیں گے، جس پر مطیع اللہ جان پیر تک مہلت کی استدعا کی عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…