منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ ہائی کورٹ کا لاپتہ شہریوں کو 21 مارچ تک پیش کرنے کا حکم

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لاپتہ شہریوں کو بازیاب کراکر 21مارچ کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔جمعہ کوسندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمدعلی ایم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق جے آئی ٹیز اور صوبائی ٹاسک فورس کی کارگردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کی کارگردگی سے بھی نہیں لگتا کہ لوگ بازیاب ہوجائیں گے، اداروں کی جانب سے ہمیشہ روایتی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آئی جی سندھ لاپتہ افراد کے معاملے کی خود نگرانی کریں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ عدالت میں رو رو کرچلے جاتے ہیں،لگتا ہے لوگوں کے رونے کا کسی کو فرق نہیں پڑتا۔کیس کی سماعت کے دوران دو لاپتہ افراد کی والدہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ڈھائی سال قبل میرے دو بیٹوں سجاد اور بلال کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا، کچھ عرصے بعد تو بلال واپس آگیا مگر سجاد ابھی تک لاپتہ ہے، پولیس اس معاملے میں کچھ نہیں کرتی۔جس پر جسٹس نمعت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس رویے کے باعث اب تو بیشتر لاپتہ افراد کے اہلخانہ کیسز کی پیروی کے لیے ہی نہیں آتے، سماعت کے دوران عدالت نے شہری جبران کی کمشدگی کی نئی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے7 مارچ تک اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔بعد ازاں عدالت نے لاپتہ افراد کیس میں ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لاپتہ شہریوں کو بازیاب کراکر 21 مارچ کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…