جمعرات‬‮ ، 30 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان کے مقابلے میں بھارت پختونوں کی مدد کرےکیونکہ۔۔ باچا خان کی پڑ پوتی یاسمین نگار نے مودی سے کیا اپیل کر دی

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں پختونوں کا برین واش کر کے انہیں طالبان بنایا جا رہا ہے، بھارت پختونوں کو پناہ دیتے ہوئے شہریت دینے کا اعلان کرے، باچا خان کی پڑپوتی یاسمین نگار نے پاکستان کے خلاف بھارت سے پختونوں کی مدد کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سرحدی گاندھی کے طور پر مشہور خان عبدالغفار خان کی پڑپوتی یاسمین نگار نے پاکستان کے خلاف ہرزا سرائی

کرتے ہوئے بھارت سے مدد مانگ لی ہے۔ یاسمین نگار نے بھارت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پختونوں کی پاکستان کے خلاف مدد کرے ۔ پاکستان میں پختونوں کا برین واش کر کے انہیں طالبان بنایا جا رہا ہے۔ بھارت پختونوں کو پناہ دیتے ہوئے شہریت دینے کا اعلان کرے۔ واضح رہے کہ یاسمین نگار خان عبدالغفار خان کی پڑپوتی ہیں جنہوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کے فلسفے کی بنیاد پر شہرت حاصل کی۔ خان عبدالغفار خان پاکستان بننے کے سخت خلاف تھے ۔ خان عبدالغفار خان مہاتما گاندھی کے بڑے مداحوں میں سے ایک تھے۔ آپ کے مداحوں میں آپ کو باچا خان اور سرحدی گاندھی کے طور پر پکارا جاتا ہے۔خان عبدالغفار خان نے 1920ء میں مہاتما گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ الحاق کر دیا،یہ الحاق 1947ء میں آزادی تک قائم رہا۔1987ء میں آپ پہلے شخص تھے جن کو بھارتی شہری نہ ہونے کے باوجود “بھارت رتنا ایوارڈ“ سے نوازا گیا جو سب سے عظیم بھارتی سول ایوارڈ ہے۔ 1988ء میں آپ کا انتقال ہوا، اور آپ نے پاکستان میں دفن تک ہونے کو مسترد کر دیا۔خان عبدالغفار خان کی وصیت کے مطابق انہیں جلال آباد افغانستان میں دفن کیا گیا۔ خیال رہے کہ خان عبدالغفار خان کے خاندان کے سربراہ اور ان کی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان یاسمین نگار کے حوالے سے اس سے قبل وضاحت دے چکے ہیں،

اسفندیار ولی نے ایک وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ یاسمین نگار خان جو ہندوستان میں رہائش پذیر ہے۔جنہوں نے حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا اور بی بی سی کی ایک رپورٹ میںیہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی نواسی ہیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یاسمین نگار خان کسی بھی طور پر باچا خان کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ ہی

اُن کی ہماری سیاسی تحریک سے کوئی وابستگی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وضاحت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ غلط فہمی دور ہو جائے جو میڈیا پر آنے کے بعد پیدا ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…