منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے مقابلے میں بھارت پختونوں کی مدد کرےکیونکہ۔۔ باچا خان کی پڑ پوتی یاسمین نگار نے مودی سے کیا اپیل کر دی

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں پختونوں کا برین واش کر کے انہیں طالبان بنایا جا رہا ہے، بھارت پختونوں کو پناہ دیتے ہوئے شہریت دینے کا اعلان کرے، باچا خان کی پڑپوتی یاسمین نگار نے پاکستان کے خلاف بھارت سے پختونوں کی مدد کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سرحدی گاندھی کے طور پر مشہور خان عبدالغفار خان کی پڑپوتی یاسمین نگار نے پاکستان کے خلاف ہرزا سرائی

کرتے ہوئے بھارت سے مدد مانگ لی ہے۔ یاسمین نگار نے بھارت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ پختونوں کی پاکستان کے خلاف مدد کرے ۔ پاکستان میں پختونوں کا برین واش کر کے انہیں طالبان بنایا جا رہا ہے۔ بھارت پختونوں کو پناہ دیتے ہوئے شہریت دینے کا اعلان کرے۔ واضح رہے کہ یاسمین نگار خان عبدالغفار خان کی پڑپوتی ہیں جنہوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کے فلسفے کی بنیاد پر شہرت حاصل کی۔ خان عبدالغفار خان پاکستان بننے کے سخت خلاف تھے ۔ خان عبدالغفار خان مہاتما گاندھی کے بڑے مداحوں میں سے ایک تھے۔ آپ کے مداحوں میں آپ کو باچا خان اور سرحدی گاندھی کے طور پر پکارا جاتا ہے۔خان عبدالغفار خان نے 1920ء میں مہاتما گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ الحاق کر دیا،یہ الحاق 1947ء میں آزادی تک قائم رہا۔1987ء میں آپ پہلے شخص تھے جن کو بھارتی شہری نہ ہونے کے باوجود “بھارت رتنا ایوارڈ“ سے نوازا گیا جو سب سے عظیم بھارتی سول ایوارڈ ہے۔ 1988ء میں آپ کا انتقال ہوا، اور آپ نے پاکستان میں دفن تک ہونے کو مسترد کر دیا۔خان عبدالغفار خان کی وصیت کے مطابق انہیں جلال آباد افغانستان میں دفن کیا گیا۔ خیال رہے کہ خان عبدالغفار خان کے خاندان کے سربراہ اور ان کی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان یاسمین نگار کے حوالے سے اس سے قبل وضاحت دے چکے ہیں،

اسفندیار ولی نے ایک وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ یاسمین نگار خان جو ہندوستان میں رہائش پذیر ہے۔جنہوں نے حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا اور بی بی سی کی ایک رپورٹ میںیہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی نواسی ہیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یاسمین نگار خان کسی بھی طور پر باچا خان کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ ہی

اُن کی ہماری سیاسی تحریک سے کوئی وابستگی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وضاحت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ غلط فہمی دور ہو جائے جو میڈیا پر آنے کے بعد پیدا ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…