منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

رانا ثنا کیوں خاموش رہنے کا کہتے رہے،شہباز شریف نے مائیک کیوں بند کیا؟زینب کے والد ایسا کیا کہنا چاہتے تھے کہ جس سے پنجاب حکومت خوفزدہ تھی، سب کچھ سامنے آگیا

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شہباز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران زینب کے والد کا مائیک کیوں بند کیا،رانا ثنا کیوں خاموش رہنے کی تلقین کرتے رہے؟وجہ سامنے آگئی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے شہباز شریف کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران زینب کے والد کا مائیک بند کرنے اور رانا ثنا کی

جانب سے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ زینب کے والد کے کچھ مطالبات تھے جو کہ وہ وہاں پریس کانفرنس کے دوران کرنا چاہتے تھے اس سے قبل زینب کے والد حاجی محمد امین میٹنگ میں شہباز شریف سے ان مطالبات کا ذکر کر چکے تھے۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ زینب کے والد کا مطالبہ نمبر ایک یہ تھا کہ زینب کے گرفتار قاتل عمرا ن کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ یہ نشان عبرت بنے، اس کے علاوہ انہوں نے کچھ اور باتیں بھی کیں جن میں اس بات کا ذکر بھی تھا کہ قصور سیف سٹی بننی چاہئے جس کا وعدہ شہباز شریف نے کر رکھا ہے، جبکہ وہ زینب کے نام پر ایک درسگاہ کا قیام چاہتے تھے۔ ترجمان پنجاب حکومت سے جب سوال کیا گیا کہ اگر یہ تمام مطالبات وہ کرنا چاہتے تھے اور اپنے دل کی بات وہاں شیئر کر لیتے تو اس میں کیا مذائقہ ہوتا ؟اس بات کا واضح جواب ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان تو نہ دے سکے مگر انہوں نے اپنی بات میں قصور ہنگاموں کا ذکر چھیڑتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر سنگین الزامات عائد کئے ۔واضح رہے کہ زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری کی تصدیق اور کیس کے حوالے سے بلائی گئی پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر قانون رانا ثنا زینب کے والد کو خاموش رہنے کا کہتے رہے اور یہ بات اس وقت سامنے آئی جب سامنے پڑے مائیک جو کہ آن تھے نے ان کی یہ بات لیک کر دی۔ پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف کی جانب سے زینب کے والد کا مائیک بند کرنے پر بھی عوامی، سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…