اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

حادثات، قتل اور لڑکیوں کی خریداری ،خلیجی ممالک کے شیخ اور عرب ممالک کے شہزادے پاکستان میں کون سے شرمناک کام کررہے ہیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے ملک میں عربوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان ادارہ پارلیمانی خدمات اسلام آباد میں چیئرپرسن سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس ہوا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سعودی عرب میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاملہ اٹھایا تو سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے معاملے کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ یکم فروری کو وفاقی

وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور معاملہ اٹھائیں گے۔اجلاس میں بلوچستان میں پرندوں کے غیر قانونی شکار کا معاملہ زیر بحث آیا۔ سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ نے کہا کہ سائبیرین پرندے پہلے بڑی تعداد میں سندھ آتے تھے تاہم شیخوں اور عربوں کے شکار کے باعث اب پرندے پاکستان نہیں آرہے، ہالیجی جھیل اور دیگر مقامات پر لاکھوں مہمان پرندے آتے تھے آج ہزاروں رہ گئے ہیں ٗانہوں نے الزام لگایا کہ یہ عرب پاکستان میں حادثات، قتل اور لڑکیوں کی خریداری میں بھی ملوث ہیں، اس معاملے کو عالمی قوانین کے تحت دیکھا جائے۔سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے جواب دیا کہ تلور کے شکارکے لئے صوبائی حکومتیں ہی علاقہ متعین کرتی ہیں ٗوزارت خارجہ صرف پیغام رسانی کرتی ہے، اگرچہ تلور خطرے سے دوچار ہے تاہم اسے معدومیت کا خطرہ نہیں، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں غیر ملکی شکاریوں کو شکار کی اجازت دی ہے، وزارت ماحولیاتی تغیرات نے اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کیے ہیں اور تلور کی افزائش نسل کیلئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت نے 25 کروڑ روپے تلور کی افزائش کے لئے مختص کر رکھے ہیں، سندھ میں تلور کی آبادی بڑھ رہی ہے، صوبائی حکومت لائسنس جاری کرتی ہے جب کہ خیبر پختون خوا کی حکومت کسی صورت شکار کی اجازت نہیں دیتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…