بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اگر یہ کام نہ کیا تو 1کروڑ 11لاکھ پاکستانی نشانہ بن جائیں گے ماہرین نے خطرناک ترین وارننگ جاری کر دی

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)محققین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے مستقبل قریب میں بارشوں اور سیلاب کا امکان ہے جس کی لپیٹ میں آکر امریکا اور ایشیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کی شدت دگنی ہوجائے گی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اسٹڈی ان دی جنرل سائنس ایڈوانسز کی ایک رپورٹ میں آئندہ 25 سالوں

میں بڑے سیلاب کے خطرات کے پیش نظر اس بات کا حساب لگایا گیا ہے کہ سیلاب سے محفوظ رہنے کے لیے مزید کیا اقدامات کی ضرورت ہوگی۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ایشیا ہوگا جس کے باعث 2040 تک ایک کروڑ 60 لاکھ لوگ بے گھر ہوجائیں گے یا نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئی تو 2040 تک سیلاب کے متاثرین کی تعداد 1 کروڑ 11 لاکھ سے زائد ہوگی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی امریکا میں بھی سیلا ب متاثرین کی تعداد اسی دورانیے میں 1 کروڑ 20 لاکھ جبکہ افریقی ممالک میں 3 کروڑ 40 لاکھ شہری بے گھرہو سکتے ہیں۔عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے یورپی ممالک خصوصا جرمنی میں بھی متاثرین کی تعداد موجودہ اعداد و شمار کے مقابلے میں 7 گنا بڑھ کر تقریبا 7 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔دوسری جانب شمالی امریکا میں بارش اور سیلابی ریلے سے 10 لاکھ لوگ بے سرو ساماں ہو سکتے ہیں۔پوسٹوم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ ریسرچ کے محقق اور مصنف ایسوین ویلنر نے امریکا کو خبر دار کیا اگر اگلے 20 برسوں میں امریکا کو سیلابی افتاد سے بچنے میں دلچسپی ہے تو واشنگٹن کے اختیار کردہ موجودہ حفاظتی عمل کو دگنا کرنا ہوگا۔اگلے چند برسوں میں سیلابی صورتحال بننے کی بڑی وجہ حیاتیاتی

ایندھن کا اخراج ہے جس پر قدغن لگانے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…