اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

زینب کا قاتل کون ہے اوراسے کیا کہہ کر ساتھ لے گیا فوٹیج میں وہ کس کا ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے زینب کی والدہ اور پرنسپل کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی زینب کا اندوہناک قتل آج اس کی تدفین کے تیسرے روز بھی پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں پیوست ہے اور پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زینب کا اندوہناک قتل ٹاپ نیوز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ زینب کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ زینب سے وابستہ افراد بھی اس کی موت کے صدمے سے نڈھال ہیں۔ نجی ٹی وی کی خاتون اینکر سے گفتگو کرتے ہوئے

زینب کے سکول کی پرنسپل جو زینب کی والدہ سے تعزیت کیلئے ان کے گھر موجود تھی کا کہنا تھا کہ زینب ایک نہایت ذہین بچی تھی وہ اپنی عمر سے زیادہ ذہین تھی اور یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی اجنبی شخص کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ چل پڑے۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ زینب میرے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ تھی اور مجھے یقین ہے کہ قاتل نے زینب کو یہی کہہ کر پھسلایا ہو گا کہ آپ کی والدہ عمرے سے لوٹ آئی ہیں میں آپ کو آپ کی والدہ کے پاس لے کر چلتا ہوں۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں نے عمرے پر جانے سے قبل زینب کو اجنبی افراد سے دور رہنے کی تلقین کی تھی۔ میں نے زینب کو کہا تھا کہ دیکھو آج کل لوگ بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں جس پر زینب نے کہا کہ ’’مما پھر وہ بچوں کا کیا کرتے ہیں‘‘میں نے زینب کو جواب دیا کہ پھر جب بچے مما کے پاس جانے کیلئے ضد کرتے ہیں تو وہ بچوں کو مار دیتے ہیں۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ عمرے کے دوران جب موبائل فون پر میری زینب سے بات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا دل لگا ہوا ہے جس پر زینب نے نہایت مطمئن انداز میں کہا کہ ہاں میرا دل لگا ہوا ہے۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب میں واپس آئی تو گھر والوں نے مجھے بتایا کہ زینب نے آپ کو بالکل بھی یاد نہیں کیا وہ نہایت اطمینان سے دن گزارتی رہی ۔ زینب کی والدہ نے بتایا کہ فون پر زینب کے ساتھ ہونے والی آخری بات چیت میں زینب نے مجھے کہا تھا کہ ’’مما میرے لئے آتے ہوئےکھلونے لے کر آنا‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…