اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

زینب کا قاتل کون ہے اوراسے کیا کہہ کر ساتھ لے گیا فوٹیج میں وہ کس کا ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے زینب کی والدہ اور پرنسپل کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی زینب کا اندوہناک قتل آج اس کی تدفین کے تیسرے روز بھی پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں پیوست ہے اور پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زینب کا اندوہناک قتل ٹاپ نیوز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ زینب کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ زینب سے وابستہ افراد بھی اس کی موت کے صدمے سے نڈھال ہیں۔ نجی ٹی وی کی خاتون اینکر سے گفتگو کرتے ہوئے

زینب کے سکول کی پرنسپل جو زینب کی والدہ سے تعزیت کیلئے ان کے گھر موجود تھی کا کہنا تھا کہ زینب ایک نہایت ذہین بچی تھی وہ اپنی عمر سے زیادہ ذہین تھی اور یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی اجنبی شخص کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ چل پڑے۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ زینب میرے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ تھی اور مجھے یقین ہے کہ قاتل نے زینب کو یہی کہہ کر پھسلایا ہو گا کہ آپ کی والدہ عمرے سے لوٹ آئی ہیں میں آپ کو آپ کی والدہ کے پاس لے کر چلتا ہوں۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں نے عمرے پر جانے سے قبل زینب کو اجنبی افراد سے دور رہنے کی تلقین کی تھی۔ میں نے زینب کو کہا تھا کہ دیکھو آج کل لوگ بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں جس پر زینب نے کہا کہ ’’مما پھر وہ بچوں کا کیا کرتے ہیں‘‘میں نے زینب کو جواب دیا کہ پھر جب بچے مما کے پاس جانے کیلئے ضد کرتے ہیں تو وہ بچوں کو مار دیتے ہیں۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ عمرے کے دوران جب موبائل فون پر میری زینب سے بات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا دل لگا ہوا ہے جس پر زینب نے نہایت مطمئن انداز میں کہا کہ ہاں میرا دل لگا ہوا ہے۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ جب میں واپس آئی تو گھر والوں نے مجھے بتایا کہ زینب نے آپ کو بالکل بھی یاد نہیں کیا وہ نہایت اطمینان سے دن گزارتی رہی ۔ زینب کی والدہ نے بتایا کہ فون پر زینب کے ساتھ ہونے والی آخری بات چیت میں زینب نے مجھے کہا تھا کہ ’’مما میرے لئے آتے ہوئےکھلونے لے کر آنا‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…