جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زینب قتل کیس، مجرم کو ضیاء الحق دور کے پپو کیس کی طرح سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے، چودھری شجاعت نے خصوصی عدالتوں بارے مطالبہ کر دیا

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ زیادتی پر زبانی بیان بازی سے کچھ نہیں ہو گا، ضیاء الحق دور کے پپو کیس کی طرح ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے اور آرمی کی طرز پر خصوصی عدالتیں قائم کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پپو کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اور جنرل ضیاء الحق کا حکم تھا کہ سورج غروب ہونے تک اس کی لاش کو وہیں لٹکا رہنے دیا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں، یہی وجہ ہے کہ اس کے کئی سال بعد تک ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ سب کو یادہے، اس سانحہ کے بعد چودھری پرویزالٰہی سب سے پہلے منہاج القرآن پہنچے تھے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح وہاں کیسی سفاکی سے حاملہ خاتون اور طالبات سمیت بیگناہوں کا خون بہایا گیا، پولیس والوں نے جوتوں سمیت اندر گھر کر قرآن پاک کے سیپاروں کی بے حرمتی کی اور منع کرنے پر خواتین پر بھی گولیاں چلوائیں، یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد بھی میں نے ایسے سنگین جرائم کے کیسز کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ایسے سفاک، بے رحم اور ظالم مجرم سرعام ٹکٹکی پر لگائے جائیں اگر اس وقت حکمرانوں نے میری بات پہ کان دھرے ہوتے تو کتنے ہی بچے بچیاں اور بیگناہ لوگ سفاک مجرموں کی درندگی کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…