جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایس ایس جی کمانڈوز مشکل گھڑی میں کیا کرتے ہیں؟ وزیراعظم کا آرمی چیف کے ہمراہ چراٹ میں ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، شاہد خاقان عباسی نے ایس ایس جی کمانڈوز کے ہتھیاروں کے ساتھ کیا کیا؟

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی قربانیوں کی بدولت پاکستان میں امن ممکن ہوسکا ہے۔ جمعرات کو شاہد خاقان عباسی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ چراٹ میں اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر وزیر اعظم نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔شاہد خاقان عباسی کو ایس ایس جی ادارے، صلاحیتوں اور کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

ایس ایس جی کمانڈوز نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں اور مہارت کا مظاہرہ بھی کیا جبکہ وزیر اعظم نے ایس ایس جی کمانڈوز کے زیر استعمال ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی۔ایس ایس جی افسران اور جوانوں سے خطاب کے دوران شاہد خاقان عباسی نے ایلیٹ فورس کی کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے ایس ایس جی اور مسلح افواج کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا، جن کی بدولت پاکستان میں امن ممکن ہوسکا۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف ایس ایس جی کمانڈوز کی شاندار خدمات کو سراہا اور ایس ایس جی کمانڈوز کی بطور ایلیٹ فورس مہارت اور کارکردگی کی تعریف کی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایس ایس جی سب سے زیادہ قربانیاں دیتی ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں ایس ایس جی سب سے پہلے پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی کی قربانیاں وہ ہیں جو منظر عام پر نہیں آتیں لیکن ہمارے کمانڈوز کی قربانیاں باعث افتخار ہیں، کارگل سے لیکر سوات تک پاک فوج کی محنت رنگ لائی ہے جبکہ آپریشن ضرب عضب میں ایس ایس جی کی محنت نظر آتی ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا ہماری ایس ایس جی کی تعریف کرتی ہے، مجھے 4 ممالک کے سربراہان نے کہا آپ کی اسپیشل فورس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔دورے میں وزیر دفاع خرم دستگیر، کور کمانڈر پشاور اور دیگر سینئر آرمی افسران بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…