ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

ن لیگ کے دلہے کو جے یو آئی نے نہیں ان کے اپنے باراتیوں اور سسرال والوں نے نکالا ، حافظ حمد اللہ

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ( ن) لیگ کے دلہے کو جمعیت علماء اسلام نے نہیں بلکہ ان کے اپنے باراتیوں اور سسرال والوں نے نکالا ہے۔ ہمیں قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو مشکلات جے یو آئی سے نہیں بلکہ اپنی جماعت کے لوگوں سے تھی۔ ن لیگ کے دلہے کو

مشکلات اپنے باراتیوں سے ہوئی۔ سسرال اور باراتی جو دلہے کو وزیراعلیٰ ہاؤس لے کر آئے ۔ انہوں نے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد لے کر آئے۔ جمعیت علماء اسلام کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پی ایم ایل ق مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے۔ مسلم لیگ کے تمام اراکین میں سے5تو اب ثناء اللہ زہری کے ساتھ تھے جبکہ باقی تمام اراکین تو اب ثناء اللہ کے خلاف تحریک میں شامل تھے۔ مسلم لیگ کے 21میں سے 16اراکین خلاف تھے باقی5میں سے تین خواتین اور 2مرد تھے ۔ میر حاصل قرد نواب ثناء اللہ کا دست راست تھا پہلے ان کے ساتھ پھر راتوں رات اپوزیشن جماعت کی تحریک عدم اعتماد کا حصہ بن گئے جمعیت علماء اسلام کو قصور وار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے بہت سے اراکین کے نواب ثناء اللہ سے دوستانہ تعلقات ہیں مگر جب پارٹی کا فیصلہ ہوتا ہے تو تب اپنے پارٹی فیصلوں پر ہی عمل کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب کوئٹہ گئے تو مسلم لیگ ن کے اراکین اپنے ہی وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے لئے راضی نہیں تھے۔ سب سے زیادہ نقصان وزیراعلیٰ مسلم لیگ ن کے لوگوں نے ہی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے اراکین جنہوں نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی ان کے اند بھی اختلافات موجود ہیں۔ مستقبل کے وزیراعلیٰ کے لئے چار امیدوار ہیں ۔ چنگیز مریس، صلاح بہتائی، جان جمالی اور سرفراز بگٹی ۔ ان چار میں سے ایک وزیراعلیٰ بنے گا۔ آنے والے دنوں میں مزید حالات تبدیل ہو جائینگے۔ صوبے میں مزید مشکلات پیدا ہو جائینگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…