جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ن لیگ کے دلہے کو جے یو آئی نے نہیں ان کے اپنے باراتیوں اور سسرال والوں نے نکالا ، حافظ حمد اللہ

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ( ن) لیگ کے دلہے کو جمعیت علماء اسلام نے نہیں بلکہ ان کے اپنے باراتیوں اور سسرال والوں نے نکالا ہے۔ ہمیں قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو مشکلات جے یو آئی سے نہیں بلکہ اپنی جماعت کے لوگوں سے تھی۔ ن لیگ کے دلہے کو

مشکلات اپنے باراتیوں سے ہوئی۔ سسرال اور باراتی جو دلہے کو وزیراعلیٰ ہاؤس لے کر آئے ۔ انہوں نے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد لے کر آئے۔ جمعیت علماء اسلام کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پی ایم ایل ق مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے۔ مسلم لیگ کے تمام اراکین میں سے5تو اب ثناء اللہ زہری کے ساتھ تھے جبکہ باقی تمام اراکین تو اب ثناء اللہ کے خلاف تحریک میں شامل تھے۔ مسلم لیگ کے 21میں سے 16اراکین خلاف تھے باقی5میں سے تین خواتین اور 2مرد تھے ۔ میر حاصل قرد نواب ثناء اللہ کا دست راست تھا پہلے ان کے ساتھ پھر راتوں رات اپوزیشن جماعت کی تحریک عدم اعتماد کا حصہ بن گئے جمعیت علماء اسلام کو قصور وار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے بہت سے اراکین کے نواب ثناء اللہ سے دوستانہ تعلقات ہیں مگر جب پارٹی کا فیصلہ ہوتا ہے تو تب اپنے پارٹی فیصلوں پر ہی عمل کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب کوئٹہ گئے تو مسلم لیگ ن کے اراکین اپنے ہی وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے لئے راضی نہیں تھے۔ سب سے زیادہ نقصان وزیراعلیٰ مسلم لیگ ن کے لوگوں نے ہی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے اراکین جنہوں نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی ان کے اند بھی اختلافات موجود ہیں۔ مستقبل کے وزیراعلیٰ کے لئے چار امیدوار ہیں ۔ چنگیز مریس، صلاح بہتائی، جان جمالی اور سرفراز بگٹی ۔ ان چار میں سے ایک وزیراعلیٰ بنے گا۔ آنے والے دنوں میں مزید حالات تبدیل ہو جائینگے۔ صوبے میں مزید مشکلات پیدا ہو جائینگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…