جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

7من سونا ،43من چاندی ،پاکستان کو بڑا خزانہ مل گیا،یہ سونا اور چاندی کس کا ہے؟ بالاخر پتہ چل گیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی عملدرآمد اور جائزہ کمیٹی کے اجلاس میں قیام پاکستان سے مختلف بینکوں ،پاکستان منٹ اور سرکاری مال خانوں میں 7 من 1 کلو 4 تولے سونے اور43 من 30 کلو 63 تولے چاندی کا انکشا ف ہوا ۔یہ سونا اور چاندی 1947 سے موجود ہے اور کوئی ان کا دعویدار نہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی یہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے،اسے صوبوں کو دینے سے گریز کیا جائے۔ وزارت خزانہ حکام نے کہا

صوبوں میں یہ سونا اور چاندی دیا گیا تو نیا تنازع کھڑا ہو جائے گا اور مسائل جنم لیں گے،خبر رساں ادارے  کے مطابق قومی بنک میں لاوارث7 من کئی کلو گرام سونا اور13 کروڑ روپے مالیت کی چاندی کااب تک کسی نے کلیم نہیں کیازرائع ‘یہ سونا چاندی نواب آف بہاول پورکی ملکیت ہے مرکزی صدر عوامی تحریک بحالی صوبہ بہاول پور محمداجمل ملک اسیررہنمابہاول پورصوبہ ‘ تفصیل کے مطابق ایک قومی بنک کے زرائع کے مطابق 7 من اورکئی کلوگرام سونااور 13 کروڑ روپے مالیت کے چاندی لاواث پڑی ہے اوراس کو کلیم کرنے والااب تک کوئی نہیں آیاہے اورنہ ہی اب تک ان کے وارثان کاپتہ چلاہے کہ یہ کسی کی ملکیت ہیں مرکزی صدر عوامی تحریک بحالی صوبہ بہاول پور محمداجمل ملک اسیررہنمابہاول پورصوبہ نے کہاکہ کیایہ وہی سونا تونہیں ہے جوکہ پاکستان بنتے وقت امیرآف بہاول پور نے پاکستان کی معیشت کومستحکم رکھنے کیلئے حکومت کوعطیہ کیاتھا انہوں نے کہاکہ اربوں روپے مالیت کاسوناچاندی عطیہ کرنے والی ریاست اب پائی پائی کومحتاج ہوچکی ہے اوراس کاکوئی پرسان حال نہ ہے انہوں نے کہاکہ پورے انڈیا میں سب سے امیرریاستوں میں شمارہونے والی سابق ریاست بہاول پور انتہائی خوشحال تھی لیکن اب ڈیڑھ کروڑ آبادی میں سے 75 فیصد غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں  سونا اور چاندی 1947 سے موجود ہے اور کوئی ان کا دعویدار نہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی یہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے،اسے صوبوں کو دینے سے گریز کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…