جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی بندرگاہوں پر پابندیاں کسی بھی وقت عائد کی جا سکتی ہیں، تمام بحری آمد و رفت بند ہو جائے گی، سنگین ترین انتباہ جاری، کھلبلی مچ گئی

datetime 7  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقوں پر بدترین آلودگی کی بدولت بندرگاہوں پر بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمد و رفت بند ہو سکتی ہے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے

اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ کراچی کے ساحلی علاقوں میں آلودگی میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی کے سمندر میں ہر روز 50 کروڑ گیلن آلودہ پانی پھینکا جاتا ہے اور اس پانی میں فیکٹریوں کا زہر آلود پانی بھی شامل ہے جسے بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے براہ راست سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق کراچی کے ساحلی علاقوں میں آلودگی اور زہریلے پانی کی مقدار اس قدر زیادہ ہو گئی ہے کہ یہ نہ صرف سمندری حیات کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس سے شہری بھی سنگین طبی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بریفنگ کے بعد کمیٹی کی جانب سے کراچی کے میئر وسیم اختر اور دوسرے متعلقہ افسران کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقوں پر بدترین آلودگی کی بدولت بندرگاہوں پر بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمد و رفت بند ہو سکتی ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…