جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

کراچی میں سی ویو پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت،مرکزی ملزم اورموٹر سائیکل والا دوست نکلے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن )کراچی میں سی ویو پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور مرکزی ملزم خاور برنی نے تفتیشی افسر کے سامنے موٹرسائیکل چلانے والے ڈاکٹر عبدالرحیم سے دوستی کا اعتراف کرلیا۔خاور برنی نے اپنے بیان میں دعوٰی کیا کہ مرسیڈیز کے ڈرائیور پر اسلحہ اس نے نہیں بلکہ ڈاکٹر رحیم کے سیکیورٹی گارڈ نے رکھا تھا۔خیال رہے کہ اس سے قبل خاور برنی نے موٹرسائیکل سوار رحیم سے

لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے نہیں جانتا تاہم اب نئی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جس میں مقتول ظافرکی بے قابو گاڑی کی ٹکر سے رحیم کی موٹرسائیکل کو گرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ قتل کے واقعے سے پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ظافر اورموٹرسائیکل سوار ڈاکٹر رحیم کو دیکھا جاسکتا ہے، ظافر سڑک کنارے گاڑی لانے کی کوشش کرتا ہے تو ڈاکٹر عبدالرحیم کو ٹکر لگ جاتی ہے لیکن ظافر رکنے کے بجائے وہاں سے نکل جانے کی کوشش کرتا ہے۔خیال رہے کہ 3 دسمبر کو ظافر اپنے دوستوں کے ساتھ جارہا تھا کہ اْس کی کار ساتھ چلنے والی ہیوی بائیک سے ٹکرا گئی، بائیک سوار کو معمولی چوٹیں آئیں مگر پیچھے موجود دو گاڑیوں میں سوار لڑکوں نے ظافر کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔فائرنگ سے ظافر موقع پر جاں بحق جبکہ اس کا دوست زید زخمی ہوگیا تھا۔ پولیس نے مرکزی ملزم خاور برنی کو پی ای سی ایچ ایس کے علاقے سے گرفتار کرلیا تھا جس نے فائرنگ کرنے کا اعتراف تو کیا تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ گاڑی روکنے کے لیے ٹائر پر فائرنگ کرنا چاہتا تھا لیکن غلطی سے گولیاں گاڑی کے اندر بیٹھے لڑکوں کو جا لگیں۔اس واقعے میں ہلاک ہونے والے نوجوان ظافر کی تدفین گزشتہ روز ڈیفنس کے قبرستان کردی گئی ہے جبکہ واردات کا مقدمہ مقتول کے والد فہیم کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے ایک اور ملزم دانش کی تلاش شروع کردی گئی ہے جبکہ خاور کے قبضے سے ملنے والے پستول کی فارنزک کرائی جارہی ہے اور خاور کی دو گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔اس حوالے سے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ ملزمان چاہے جتنے ہی بااثر کیوں نہ ہو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…