بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

اسلام آبادمیں خوفناک دھرنا،اصل میں کیا ہورہاہے؟غیرملکی سفیروں نے کیا پیغام دیا؟اہم وزراءننگی گالیاں کھانے کے باوجود کیا کرتے رہے؟کیا حکومت واقعی ناکام ہو چکی ،جاوید چودھری کے انکشافات‎

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

میں آپ کے سامنے دو واقعات رکھنا چاہتا ہوں‘ یہ دونوں واقعات ہماری نفسیات‘ ریاست کی سوچ اور حکومت کی رٹ تینوں کی تشریح ہیں‘ پہلا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ آج ملتان میں 80 سال کے ایک بزرگ ادریس احمد اور ان کی 75 سال کی اہلیہ نسیم بی بی احتجاج کیلئے ایم ڈی اے آفس کے باہر پہنچے‘ یہ دونوں اپنی پانچ کنال زمین کیلئے احتجاج کر رہے تھے‘ ان کی زمین پر ایم ڈی اے کے اہلکاروں نے قبضہ کر لیا تھا‘ پولیس آئی‘ بزرگ خاتون اور مرد کو مارا‘

سڑک پر گھسیٹا‘ گاڑی میں ڈالا‘ انہیں اپنے پاؤں میں بٹھایا اور تھانے لے جا کر حوالات میں بند کر دیا‘ آپ اب دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ اسلام آباد میں پندرہ دنوں سے ایک خوفناک دھرنا چل رہا ہے‘ دھرنے کے شرکاء نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے 20 لاکھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے‘ کاروبار تباہ ہو چکے ہیں‘ دفاتر کا نظام درہم برہم ہے‘ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہو چکی ہیں‘ ائیر پورٹ کے راستے مسدود ہو چکے ہیں‘ ایمبولینسز تک کو راستہ نہیں مل رہا اور سفارت کاروں نے اپنے اپنے ملکوں کو پاکستان کو سفر کیلئے نامناسب قرار دینے کی درخواستیں بھجوا دی ہیں لیکن حکومت ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات بھی کر رہی ہے‘ ان کی حفاظت بھی کر رہی ہے اور ان پر روزانہ 50 لاکھ روپے بھی خرچ کر رہی ہے‘ مجھے یقین ہے مظاہرین یہاں سے اٹھنے سے قبل اپنے درجن بھر مطالبات بھی منوا لیں گے‘ یہ دونوں واقعات ایک جیسے ہیں لیکن ریاست کا رویہ دونوں کیلئے مختلف ہے‘ ایک طر ف ریاست بوڑھے شخص اور بزرگ خاتون کو جائز مطالبے کے باوجود پھینٹیاں لگا رہی ہے اور دوسری طرف ریاست کے دس دس اہم وزراء ننگی گالیاں کھانے کے باوجود دھرنے کے نمائندوں کو عزت کے ساتھ سامنے بٹھا کر مذاکرات کر رہے ہیں‘ حکومت عدالت کا حکم تک نہیں مان رہی‘ یہ تضاد یہ فرق کیوں ہے‘

میری ملتان کے بزرگ جوڑے سے درخواست ہے آپ اگر آئندہ کبھی احتجاج کیلئے نکلیں تو آپ سو پچاس لوگ ساتھ لے کر نکلیں‘ آپ اسلام آباد آئیں‘ کوئی مین روڈ بند کریں‘ آپ احتیاطاً اپنے ساتھ کسی مولانا کو بھی لے آئیں اور اگر ہو سکے تو آپ اپنے احتجاج میں ایک آدھ کنٹینر بھی شامل کرلیں‘ حکومت آپ کی میزبانی بھی کرے گی‘ آپ سے مذاکرات بھی کرے گی اور آپ کے جائز ناجائز مطالبات بھی مانے گی آپ اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر آپ پولیس کی چھترول کیلئے تیار رہیں۔حکومت آج بھی دھرنا ختم نہیں کرا سکی‘ حکومت کی اس ناکامی پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بڑا دعویٰ کیا،چیئرمین سینٹ نے اس سے بھی خطرناک خیالات کااظہار کیا،یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا‘ کیا حکومت واقعی ناکامی ہو چکی ہے اور کیا ریاست اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور وزیر داخلہ احسن اقبال ہمارے مہمان ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…