پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

لاہورہائیکورٹ کا مسلم کمرشل بینک کی درخواست پر شریف خاندان کی اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو 15 دسمبر کو نیلام کرنے کا حکم

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی ) لاہورہائیکورٹ نے مسلم کمرشل بینک کی درخواست پر شریف خاندان کی اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو 15 دسمبر کو نیلام کرنے کا حکم دیدیا، اتفاق ٹیکسٹائل ملز مالکان نے عدالتی ڈگری کے بعد 11 کروڑ 95 ہزار کی رقم ادا نہیں کی ۔ پیر کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے مسلم کمرشل بینک کی شریف خاندان کی مل کی

نیلامی کے لیے درخواست کی سماعت کی جس میں بینک کے وکیل نے دلائل میں بتایا کہ نوازشریف کے قریبی عزیز نے 27 کنال ایک مرلے پر مشتمل مل کو رہن رکھوا کر قرضہ حاصل کیا، قرض کی عدم ادائیگی پر اتفاق ٹیکسٹائل ملزکو2000 میں ڈیفالٹر قراردیا گیا۔بینک وکیل نے کہاکہ ٹیکسٹائل ملز کے مالکان نے کاروبار کے لیے قرض حاصل کیے، ڈیفالٹرہارون یوسف، یوسف عزیز، کوثریوسف، سائرہ فاروق،عائشہ ہارون نے قرض کے لیے گارنٹی دی، ڈیفالٹر اتفاق ٹیکسٹائل ملزکے خلاف 2016 میں 25 کروڑ 33 لاکھ 64 ہزار کی ڈگری بھی جاری کی جاچکی ہے۔بینک کے وکیل نے دلائل میں بتایا کہا عدالتی ڈگری کے بعد اتفاق ٹیکسٹائل ملز مالکان نے14 کروڑ 32 لاکھ 69 ہزار ادا کیے، ڈیفالٹر ملز نے ڈگری کی بقایا 11 کروڑ 95 ہزار کی رقم ادا نہیں کی جارہی۔بینک کے وکیل نے استدعا کی کہ رقم کی ریکوری کے لیے اتفاق اڈہ پر واقع اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو نیلام کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے بینک کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد شریف خاندان کی اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو 15 دسمبر کو نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…