اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک بھر میں سرد موسم اور دھند میں اضافے کے باعث تعلیمی اداروں کی موسمِ سرما کی تعطیلات بڑھانے کا معاملہ دوبارہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ سردی کی شدت کے پیش نظر حکومت کی جانب سے والدین اور شہریوں سے رائے طلب کی جا رہی ہے تاکہ مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔وزیرِ تعلیم کے جاری کردہ عوامی پول میں اب تک 24 ہزار 756 افراد اپنی رائے دے چکے ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق زیادہ تر شہری موسمِ سرما کی چھٹیوں میں توسیع کے حامی نظر آ رہے ہیں۔
پول میں حصہ لینے والے 83 فیصد افراد نے تعلیمی ادارے 19 جنوری سے کھولنے کی حمایت کی، جبکہ صرف 17 فیصد نے 12 جنوری سے اسکولوں اور کالجوں کی بحالی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔والدین کا مؤقف ہے کہ شدید اور خشک سردی کے باعث بچوں میں موسمی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں نزلہ، زکام اور نمونیا نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔متعدد والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم ایک ہفتے کی اضافی چھٹیاں دی جائیں تاکہ موسم میں بہتری آنے کے بعد تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔ محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق موصول ہونے والی آراء کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم تعطیلات میں توسیع سے متعلق کوئی حتمی اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔















































