اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

مصطفی کمال کے پاس ایم کیوایم میں شمولیت کے سوا کوئی راستہ نہیں، شرجیل میمن

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی ) پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ہے کہ پی ایس پی کے چیرمین مصطفی کمال کی پوزیشن کمزور نظر آرہی ہے، ان کے پاس ایم کیو ایم جوائن کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،ایم کیو ایم پاکستان کنفیوژن کا شکار ہے اور فاروق ستار نے اپنے پرانے قائد کی یادیں تازہ کیں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کنفیوژن کا شکار ہے ۔گزشتہ روز فاروق ستار نے متحدہ قومی موومنٹ کے پرانے قائد کی یادیں تازہ کیں، پارٹی چھوڑنا اور دوبارہ جوائن کرنا یہ ان کی روایت تھی، اللہ ایم کیو ایم کی مدد کرے اور ان کی پریشانی دور کرے جب کہ ایم کیو ایم جو اپنے لیے بہتر سمجھے وہ ان کا حق ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ مصطفی کمال کے پاس ایم کیو ایم جوائن کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، ان کی گزشتہ روز کی کی پریس کانفرنس کے بعد مصطفی کمال کی پوزیشن کمزور نظر آرہی ہے جب کہ اگر ایم کیوایم پاکستان اپنے موقف پرڈٹی رہی تو مصطفی کمال کے پاس آپشن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں سرپرائزدے گی جب کہ پیپلزپارٹی میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں،کراچی میں پی پی نے جو ترقیاتی کام کیے ہیں وہ عوام کی نظروں میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کی فلاح وبہبود کے لیے جیل اصلاحات ضروری ہیں، جیلوں میں قیدیوں کے مسائل حل کروانے کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے جب کہ جیل قید خانہ ہوتا ہے اور وہاں مسائل ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…