منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شادی کے بعد آصف علی زرداری بینظیر بھٹو کو مارتے تھے معروف پیر و عالم دین کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 20  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف عالم دین اور سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے روحانی پیر مولانا سراج احمد دین پوری کے فرزند مولانا بلال احمد دین پوری نے بینظیر بھٹو کو گھریلو تشدد کا شکار خاتون قرار دیدیا۔روزنامہ خبریں کی ایک رپورٹ کے مطابق معر وف عالم دین اور سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے روحانی پیر مولانا سراج احمد دین پوری کے

فرزند مولانا بلال احمد دین پوری کا کہنا تھاکہ سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو ان کے والد کی بڑی عقیدت مند تھیں اور ان کے مشورے پر پورا پورا عمل کرتی تھیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بینظیر بھٹو نے مولانا سراج احمد کے حکم پر شادی کی اور سر پر دوپٹہ بھی ان کے حکم پر اوڑھا۔ والد محترم مولانا سراج احمد دین پوری نے ان سے فرمایا کہ ’شادی کر لو اس کے بعد ہم تمہارے سر پر دوپٹہ اوڑھیں گے‘۔ ایک دعوت میں کھڑے ہو کر کھانا کھانے پر مولانا نے محترمہ کی اس حرکت کو سخت ناپسند کیا جس کو محترمہ نے فوراََ محسوس کر لیا اور خود چل کر آئیں اور جب ان کے والد نے بتایا کہ یہ سنت طریقہ نہیں اور یہ انسانوں والا کام نہیں تو ان کیلئے نیچے دسترخوان لگوایا اور کہا کہ یہ سنت طریقہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری انہیں مارتے تھے اور اس کا وہ کئی بار ان کے والد مولانا سراج احمد دین پوری سے اظہار بھی کر چکی تھیں لیکن ان کی دینی تعلیمات کے پیش نظر اپنے خاوند کا احترام کرتی تھیں۔ اب پیپلزپارٹی میں وہ دم خم نظر نہیں آتا۔ انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ اسلام دشمن عناصر دنیا میں فساد برپا کر رہے ہیں اور نہتے مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک متحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…