اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بسنت کے موقع پر متعدد افسوسناک حادثات پیش آئے ہیں جن میں چند افراد جان بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
راولپنڈی میں ایک 38 سالہ سافٹ ویئر انجینئر نعمان کے ساتھ حادثہ پیش آیا جب اس کی گردن پر ڈور پھنس گئی اور موٹرسائیکل سے گرنے کے نتیجے میں اس کی ٹانگ پر بھی شدید چوٹیں آئیں۔ فوری امدادی کارروائی کے بعد نعمان کو ہولی فیملی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت پر نگرانی جاری ہے۔لاہور میں بسنت کی خوشیوں کے دوران متعدد جان لیوا حادثات بھی پیش آئے۔ سنو نیوز کے رپورٹر زین ملک، جو لاہور کے علاقے ساندہ سے تعلق رکھتے تھے، ایک مکان کی چوتھی منزل پر موجود تھے کہ اچانک توازن کھو بیٹھے اور نیچے گر گئے۔ انہیں فوری طور پر میاں منشی ہسپتال منتقل کیا گیا مگر سر پر شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ہسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی وجہ سر پر لگنے والی چوٹ قرار دی گئی ہے۔اسی دوران لاہور کے علاقہ باغبانپورہ میں ایک 32 سالہ شخص سلیمان بھی بسنت کے دوران پتنگ لوٹتے ہوئے دھاتی تار سے کرنٹ لگنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ پولیس نے واقعے کے بعد ضروری کارروائی مکمل کی اور لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے مردہ خانے منتقل کر دی۔مزید برآں لوئر مال کے علاقہ بلال گنج میں 16 سالہ نوجوان عبد اللہ بھی پتنگ بازی کے دوران چھت سے گر کر شدید زخمی ہوا، جسے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
بتایا گیا کہ عبد اللہ سیالکوٹ سے بسنت منانے لاہور آیا ہوا تھا، اور پولیس نے حادثے کی تحقیقات مکمل کر کے لاش مردہ خانے منتقل کر دی۔یہ واقعات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات اور والدین کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔



















































