منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نامعلوم افراد کون ہیں؟بینظیربھٹو کو کس نے قتل کروایا؟پاکستان میں70برس سے تحقیقات کیلئے کون سا دلچسپ طریقہ استعمال کیاجارہاہے؟جاوید چودھری کے انکشافات‎

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

آج کوئٹہ میں دہشت گردی کی ایک اور لرزہ خیز واردات ہو گئی‘ دہشت گردں نے ایلیٹ فورس کے ٹرک کو نشانہ بنایا‘ چھ اہلکار شہید ہو گئے‘ 22 زخمی ہیں‘ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے‘ حکومت نے دستور کے مطابق اس وقت واردات کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیالیکن کیا یہ تحقیقات مکمل ہوں گی‘ کیا ملزم پکڑے جائیں گے‘ جی نہیں‘ کیوں نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں ستر برسوں سے تحقیقات کیلئے ایک

دلچسپ طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے‘ یہ طریقہ نامعلوم افراد کا طریقہ کہلاتا ہے‘ ہماری حکومتیں جب بھی کسی تحقیقاتی ادارے سے پوچھتی ہیں کیا فلاں واردات کی تحقیقات مکمل ہوئیں تو ادارہ جواب دیتا ہے ”جی سر ہم نے پتہ چلا لیا ہے“ حکومت خوش ہو کر پوچھتی ہے کیا پتہ چلا تو جواب آتا ہے ”ہمیں پتہ چلا چند نامعلوم افراد‘ کسی نامعلوم مقام سے‘ نامعلوم افراد کے حکم پر یہاں آئے‘ بم دھماکہ کیا اور پھر کسی نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے“ ہمارے ملک میں خان لیاقت علی خان قتل سے لے کر بے نظیر بھٹو کی شہادت تک تحقیقات کا صرف اور صرف یہ طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے‘ آج 18 اکتوبر ہے‘ آج سے ٹھیک دس سال پہلے کراچی میں کار ساز کے (مقام) پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی ریلی پر دو بم دھماکے ہوئے تھے‘ ان دھماکوں میں 180 لوگ شہید اور 600 زخمی ہو گئے‘ یہ دھماکے کس نے کئے تھے‘ان کا ماسٹر مائینڈ کون تھا‘ حکومت دس سال بعد بھی تعین نہیں کر سکی‘ سانحہ کار ساز کے اڑھائی ماہ بعد محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شہید ہو گئیں‘ محترمہ کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پانچ سال وفاق میں حکمران رہی‘ یہ ساڑھے نو سال سے سندھ میں بھی حکومت کر رہی ہے لیکن محترمہ کے قاتل ہوں یا پھر کار ساز کے حملہ آور یہ آج بھی ایک ایسے نامعلوم افراد ہیں جو کسی نامعلوم فرد کے حکم پر نامعلوم جگہ سے آئے تھے اور محترمہ اور محترمہ کے جیالوں کو قتل کر کے نامعلوم مقام کی طرف فرار ہو گئے تھے‘

وہ نامعلوم افراد آج بھی نامعلوم ہیں اور یہ اگلے سو سال تک نامعلوم رہیں گے اور قوم ہر سال شہداءکی یادگار پر موم بتیاں روشن کر کے اپنا فرض ادا کرتی رہے گی‘ آپ فیصلہ کیجئے جس ملک میں محترمہ کے قاتل گرفتار نہ ہوئے ہوں اس ملک میں کوئٹہ پولیس کے شہداءکے مجرموں کو کون گرفتار کرے گا‘ان کی شہادتوں کا بدلہ کون لے گا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…