منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قادیانیوں کی حمایت میں بیان انتہائی مہنگا پڑ گیا رانا ثنا اللہ پر تا حیات بڑی پابندی عائد کر دی گئی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو قادیانیوں کی حمایت میں بیان دینا بہت مہنگا پڑ گیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی ہائیکورٹ بار ممبر شپ ختم کر کے ہائیکورٹ بار میں داخلے پر تا حیات پابندی لگا دی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رانا ثنا اللہ قادیانیوں کے متعلق بیان دینے کے بعدسے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا تھا

کہ آرمی چیف نے درست کہا کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے ، وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی اسمبلی میں ایسی تقریر نہیں ہونی چاہیے تھی ،احمدی خود کو اقلیت ماننے کو تیار نہیں ،ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر ان کا ہم سے معمولی اختلاف ہے اور قادیانی بھی مسلمان ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہیے ،یہ حساس موضوع ہے اور اسے بار بارمیڈیا پر زیر بحث نہیں لانا چاہیے ،نوازشریف ووٹ اور اداروں کے تقدس کی بات کرتے ہیں ان کی ٹکراؤ کی سوچ نہیں ہے ،وہ اپنے مقدمات کا سامنا کریں گے ،عدالت کے اندر اور باہر اپنا موقف رکھیں گے ۔وہ بدھ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کررہے تھے ۔ رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا 100فیصد درست ہے کہ جہاد ریاست کا حق ہے ان کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ،جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے کیپٹن (ر) صفدر کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے حوالے سے تقریر کے تناظر میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی اسمبلی میں ایسی تقریر نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن تقریر کے بعد گھٹیا پوائنٹ سکورننگ ہر گز نہیں کرنی چاہیے ، رانا ثنا ء اللہ خان نے کہا کہ احمدی خود کو اقلیت ماننے کو تیار نہیں ہیں

ہمیں اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہیے ،یہ معاملہ میڈیا پر بار بار زیر بحث نہیں لانا چاہیے اس بحث کے منفی نتائج نکل سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا ایمان اور عقیدہ (ن) لیگ کے ماتحت نہیں ہے ۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نوازشریف ووٹ اور اداروں کے تقدس کی بات کرتے ہیں ان کی ٹکراؤ کی سوچ نہیں ہے ،

وہ اپنے تمام مقدمات کا سامناعدالتوں میں کریں گے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ نوازشریف عدالت کے اندر اور باہر اپنا موقف رکھیں گے ،عوام کی عدالت بھی لگنی ہے اور عوام کو بھی سب کچھ بتانا پڑے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…