منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پلی بارگین،کرپشن کر لو چار آنے ہمیں دے دو اور چلے جاؤ،شرمناک قانون کیخلاف سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون پر اٹارنی جنرل سے تحریری جواب طلب کرلیا۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب قانون میں رقوم کی رضاکارانہ واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایک طرف نیب کہتا ہے کہ ساڑھے 7 کروڑ کا کیس معمولی ہے،

دوسری جانب 10 لاکھ کا مجرم سزا کاٹ رہا ہوتا ہے، دونوں کے نتائج میں فرق ہے ٗجب کسی کے خلاف انکوائری ہوتی ہے تو چیئرمین نیب چٹھی لکھتے ہیں۔عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی میں فرق کیا ہے؟ کہا جاتا ہے آجاؤ بھائی کرپشن کر لو چار آنے ہمیں دے دو اور چلے جاؤ، خدا کا خوف کریں ایسا بھی کبھی ہوا ہے؟ کیا کوئی ہے جو اس قانون کا دفاع کرے۔اٹارنی جنرل نے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون کی مخالفت کردی اور کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی کا بل سینیٹ میں زیر التوا ہے، تحریری جواب میں قانون سازی سے متعلق آگاہ کروں گا۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب کو رضاکارانہ رقم واپسی کے لامحدود اختیارات دیئے گئے، رضاکارانہ رقم واپسی دراصل اعتراف جرم ہے، رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون سے جرم کو نیک نیتی بنادیا گیا، رضاکارانہ رقم واپسی کا قانون ایسی شاندار ترمیم کرکے لایا گیا کہ کیا کہنے، اس پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ 5 لاکھ کے ملزم کو 15 ہزار لے کر چھوڑا جاتا ہے، کیوں نہ اس معاملے پر چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کریں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ عدالت خود مقدمے کا فیصلہ کرے گی۔عدالت نے اٹارنی جنرل سمیت صوبائی حکومتوں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…