ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

پلی بارگین،کرپشن کر لو چار آنے ہمیں دے دو اور چلے جاؤ،شرمناک قانون کیخلاف سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون پر اٹارنی جنرل سے تحریری جواب طلب کرلیا۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب قانون میں رقوم کی رضاکارانہ واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایک طرف نیب کہتا ہے کہ ساڑھے 7 کروڑ کا کیس معمولی ہے،

دوسری جانب 10 لاکھ کا مجرم سزا کاٹ رہا ہوتا ہے، دونوں کے نتائج میں فرق ہے ٗجب کسی کے خلاف انکوائری ہوتی ہے تو چیئرمین نیب چٹھی لکھتے ہیں۔عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی میں فرق کیا ہے؟ کہا جاتا ہے آجاؤ بھائی کرپشن کر لو چار آنے ہمیں دے دو اور چلے جاؤ، خدا کا خوف کریں ایسا بھی کبھی ہوا ہے؟ کیا کوئی ہے جو اس قانون کا دفاع کرے۔اٹارنی جنرل نے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون کی مخالفت کردی اور کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی کا بل سینیٹ میں زیر التوا ہے، تحریری جواب میں قانون سازی سے متعلق آگاہ کروں گا۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب کو رضاکارانہ رقم واپسی کے لامحدود اختیارات دیئے گئے، رضاکارانہ رقم واپسی دراصل اعتراف جرم ہے، رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون سے جرم کو نیک نیتی بنادیا گیا، رضاکارانہ رقم واپسی کا قانون ایسی شاندار ترمیم کرکے لایا گیا کہ کیا کہنے، اس پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ 5 لاکھ کے ملزم کو 15 ہزار لے کر چھوڑا جاتا ہے، کیوں نہ اس معاملے پر چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کریں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ عدالت خود مقدمے کا فیصلہ کرے گی۔عدالت نے اٹارنی جنرل سمیت صوبائی حکومتوں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…