منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فاٹا اصلاحات کی تحریک اپنے آخری مراحل میں داخل- ایم این اے الحاج شاہ جی گل آفریدی کی سربراہی میں لاکھوں لوگوں کا قافلہ کل صبح نو بجے اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا‎

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فاٹا اصلاحات کی تحریک اپنے آخری مراحل میں داخل، فاٹا اصلاحات کے بانی ایم این اے الحاج شاہ جی گل آفریدی کی سربراہی میں لاکھوں لوگوں کا قافلہ کل صبح نو بجے اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا اور اسلام آباد میں دھرنادیا جائے گا۔ اس تحریک کو تمام سیاسی جماعتوں جس میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور قبائلیوں کا مطالبہ ہے کہ فاٹا کو فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے

اور جب تک ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا تب تک اسلام آباد میں دھرنا جاری رہے گا۔یہاں یہ بات یاد رہے کہ ستمبر میں خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں فاٹا اصلاحات کے حق میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں علاقے کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی‘ یہ جلسہ بر قمبر خیل پکہ تاڑہ کے علاقے میں قومی اسمبلی کے رکن الحاج شاہ جی گل نے تحریک فاٹا اصلاحات کے پلیٹ فارم سے منعقد کیا گیا تھا جس میں باجوڑ ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان اور ممتاز قانون دان عبداللطیف آفریدی سمیت فاٹا سیاسی اتحاد اورعلاقے کے سیاسی کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی‘ اس موقع پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمائدین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا قبائلی علاقوں سے انگریز دورکے کالے قانون ایف سی آر کوختم کرکے قبائلی علاقوں کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے‘ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل فاٹا کے عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کا حق دیا جائے اور سپریم و ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے‘ اس موقع پر عمائدین نے محمود خان ا چکزئی اور مولانا فضل الرحمن پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ لوگ قبائلی عوام کے خیر خواہ نہیں اس لئے فاٹا اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں‘انہوں نے وفاقی حکومت نو اکتوبر کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبر دار کیا تھا کہ اگر مذکورہ مدت تک فاٹا اصلاحات پر عملدر آمد نہ کیا گیا تو اسلام آباد میں بہت بڑا احتجاجی دھرنادیاجائے گا۔ اس حوالے سے اب الحاج شاہ جی گل آفریدی کی سربراہی میں قافلہ صبح اسلام آباد پہنچ جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…