منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال میں نوزائیدہ مردہ بچوں کی لاشوں کیساتھ کیا سلوک کیاجاتا ہے، ایسا بھیانک انکشاف جو آپ کے بھی رونگٹے کھڑے کردے

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخواہ کےضلع ایبٹ آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایوب میڈیا کمپلیکس میں نوزائیدہ مردہ بچوں کی لاشیں کوڑے میں پھینکی جانے لگیں۔ تفصیلات کے مطابق یبٹ آباد کے

سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ زچہ و بچہ کا عملہ زچگی کے دوران لیبر روم میں دم توڑ جانے والے نومولود بچوں کی لاشوں کی تدفین کے بجائے انہیں کوڑے میں پھینکنا شروع کر دیا گیا جہاں یہ لاشیں کتوں اور چیل کوؤں کی خوراک بن رہی ہیں۔ جب اس حوالے سے میڈیا نمائندوں نے ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ہسپتال انتظامیہ نے کسی بھی قسم کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔دوسری جانب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹر عموماََ بچوں کو مردہ قرار دیکر سٹریچر پر ہی چھوڑ دیتے ہیں اور جب بچہ طبی امداد نہ مل سکنے کے باعث دم توڑ جاتا ہے تو اسے اٹھا کر کچرا کنڈی میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ہسپتال کے ایک اہلکار سجاول کے مطابق چند روز قبل اس کی بیوی نے اسپتال میں ہی بیٹے کو جنم دیا تاہم لیڈی ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے کر اسٹریچر پر ہی ڈال دیا۔کچھ دیر بعد جب ماں اپنے بچے کو آخری بار دیکھنے کے لیے وہاں پہنچی تو اس نے بچے میں حرکت کو محسوس کیا ، جس پر پتہ چلا کہ درحقیقت بچہ ناصرف زندہ ہے بلکہ مکمل طور پر تندرست بھی ہے۔واقعہ کے بعد سجاول اپنی بیوی اور نومولود کو گھر لے آیا۔ سجاول کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث لیڈی ڈاکٹروں اور عملے کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے تاکہ انسانیت کے ان نام نہاد مسیحائوں سے عوام کو بچایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…