ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کا رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

datetime 3  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے ہونے والی غیر ملکی فنڈنگ کے باعث دونوں پارٹیز کو غیر ملکی فنڈڈ پارٹی قرار دینے کیلئے دائر پٹیشن پر سپریم کورٹ رجسٹری کی جانب سے اعتراضات لگا کر واپس کیے جانے کے اقدام کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔یہ پٹیشن پی ٹی

آئی رکن قومی اسمبلی اسد عمر اور شیریں مزاری کی جانب سے 12 ستمبر کو دونوں پارٹیز کے خلاف حکم جاری کرنے کیلئے دائر کی گئی تھی۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے یہ پٹیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈڈ پارٹی قرار دینے کی دائر پٹیشن کے رد عمل کے طور پر دائر کی گئی ٗجس کی سماعت جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کررہا ہے۔حنیف عباسی نے اپنی پٹیشن کے ذریعے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین کو ان کے غیر قانونی اثاثوں اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے باعث نا اہل قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔پی ٹی آئی کی پٹیشن پر سماعت عدالت عظمیٰ میں منگل کے لیے مقرر کی گئی تھی، تاہم رجسٹرار آفس نے گزشتہ روز اسد عمر کی پٹیشن جبکہ گزشتہ ہفتے شیریں مزاری کی درخواست کو اس وجہ سے واپس کردی کہ درخواست گزار نے اس حوالے سے متعلقہ فورم سے رابطہ نہیں کیا جبکہ ان دونوں کی جانب سے ایسا کرنے کی معقول وجہ نہیں بتائی گئی۔علاوہ ازیں، رجسٹرار آفس نے ایک اور اعتراض بھی لگایا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے فراہم کی

گئیں دستاویزات سپریم کورٹ کے قوائد و ضوابط پر پورا نہیں اترتی۔ نجی ٹی وی کے مطابق رجسٹرار کی جانب سے پٹیشن واپس کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں کے نمائندے ایڈووکیٹ چوہدری فیصل حسین نے مذکورہ حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بجائے مطالبہ کیا کہ پٹیشن پر عدالت عظمیٰ کا ایک رکنی بینچ سماعت کرے۔پی ٹی آئی

کے رہنماؤں نے اپنی پٹیشن میں زور دیا کہ عدالت کو مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے سال 15-2013 کے درمیان اکاؤنٹس کی جانچ کا حکم دینا چاہیے جس کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری پولیٹکل پارٹیز آڈر (پی پی او) کے آرٹیکل 13 کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترتے ہیں۔دونوں درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ عدالت، الیکشن کمیشن آف

پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے دونوں پارٹیز کو جاری ہونے والے انتخابی نشان کو پی پی او کے آرٹیکل 6 اور 13 کی خلاف ورزی قرار دے اور ساتھ ہی پارٹیز پر پابندی عائد کی جائے۔اسد عمر نے اپنی پٹیشن میں زور دیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے سال 15-2013 کے اکاؤنٹس میں 2 کروڑ 70 لاکھ روپے کے غیر مصدقہ اثاثے موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…